کابل(آن لائن )افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان تشدد میں کمی کے معاہدے کا اطلاق شروع ہوگیا ہے مگر القاعدہ، داعش اور دیگر گروہوں کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ معاہدے کے اطلاق سے متعلق افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ طالبان کی جانب سے تشدد میں کمی کے آغاز کے لیے رات 12 کا وقت مقرر تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں محتاط انداز اپنانا ہو گا اور افغان سیکورٹی فورسز صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں، طالبان کے علاوہ القاعدہ،داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ تشدد میں کمی سے یہ ظاہر ہو گا کہ طالبان کسی بھی دستخط سے قبل اپنی فوج پر قابو رکھتے ہیں اور نیک نیتی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- پی ٹی آئی میں ’مارٹونگے‘ گالم گلوچ کرتے ہیں، شیرافضل نے نئی اصطلاح متعارف کرادی
- وزیراعظم اور جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پیٹرولیم لیوی پر کمیٹی قائم
- عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو نئی ماڈل جیل منتقل کیا جائے گا، عطا تارڑ
- جنوبی وزیرستان :انگور اڈہ میں افغانستان سے فائرنگ و گولہ باری،ایک شخص جاں بحق ،5 زخمی
- حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3روپے کمی کردی، ڈیزل سوا 2 روپے مہنگا