واشنگٹن ؍ تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی مسافر بردار طیارے کو فضام میں روکنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کے روز ماہان ائرلائن کا مسافر بردار طیارہ شام کی فضا میں روکا گیا، جس کا مقصد امریکی ایف 15 جنگی طیارے کے ذریعے فضائی معاینہ کرنا تھا۔ سینٹرل کمانڈ کے سینئر ترجمان کیپٹن بل اربن ن بتایا کہ امریکی جنگی طیارہ ایرانی مسافر بردار طیارے سے محفوظ فاصلے پر تھا اور یہ کارروائی بین الاقوامی معیار کے مطابق تھی۔ فضائی معاینہ الطنف چھاؤنی پر موجود امریکی اتحادیوں کے فوجیوں کے تحفظ کی گئی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ماہان ائر کی پرواز کے پائلٹ نے امریکی جنگی جہاز کی کارروائی کے دوران حفاظتی اقدام کے تحت پرواز کی بلندی اچانک کم کردی، جس کے نتیجے میں کئی مسافروں کو چوٹیں آئیں۔ بیروت جانے والی پرواز میں موجود تمام مسافر شدید صدمے اور خوف کی حالت میں رہے۔ دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی شکایت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ارسال کردی گئی ہے جب کہ ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تفتیش کریں گے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے مسافر بردار طیارے کو ہراساں کیا۔ لبنانی دارالحکومت بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے انتظامی سربراہ نے میڈیا کو بتایا کہ ماہان ائر کی پرواز کے تمام مسافروں کو بخیر و عافیت اتار لیا گیا ہے، تاہم ان میں سے کچھ زخمی ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- آئی آر سی ٹی سی معاملہ: لالو پرساد یادو کو راحت، دہلی ہائی کورٹ نے ای ڈی سے مانگا جواب
- دہلی میں یکم نومبر سے غیر بی ایس-6 گاڑیوں کے داخلے پر پابندی، سی این جی اور برقی گاڑیوں کو چھوٹ
- دہلی میں پٹاخوں پر پابندی: سپریم کورٹ کا وراٹ کوہلی جیسے کھلاڑیوں سے آگاہی مہم میں مدد لینے کا مشورہ
- گیانیش کمار کے خلاف ’عوامی مواخذہ‘: میرا کمار صدارت، ملکارجن کھڑگے قرارداد پیش اور راہل گاندھی کریں گے اختتامی خطاب
- یوپی پی ای ٹی کے باعث کل 30 اکتوبر کو لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں اسکول بند