نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت نے سرکاری ٹھیکے داروں کے لیے غیر ملکی کمپنیوں پر لاگو ہونے والے قواعد و ضوابط مزید سخت کر دیے ہیں۔ حکومتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے دلچسپی رکھنے والی پڑوسی ممالک سے وابستہ کمپنیوں کو پہلے سے رجسٹریشن اور سیکورٹی کلیئرنس پاس کرنی ہو گی۔ اس بارے میں فیصلے کا اعلان جمعرات کی شام کیا گیا۔ بھارتی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ بھارتی حکومت نے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ بالخصوص چین کے تناظر میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ نئی دہلی نے یہ قدم ایسے وقت پر اٹھایا ہے جب چین اور بھارت کے درمیان لداخ میں ایل اے سی پرجاری فوجی کشیدگی کی وجہ سے مودی حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسے چین کے خلاف اقتصادی اقدام کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بھارت کی سرحدیں پاکستان، چین، بنگلادیش، میانمر، نیپال اور بھوٹان سے ملتی ہیں۔ بیان میں حکومت نے کہا ہے کوئی بھی کمپنی جاری کردہ ٹینڈر میں اسی وقت بولی لگا سکے گی، جب وہ متعلقہ اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہو، اور وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ سے پولیٹکل اور سیکورٹی کلیئرنس حاصل کرچکی ہو۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- آئی آر سی ٹی سی معاملہ: لالو پرساد یادو کو راحت، دہلی ہائی کورٹ نے ای ڈی سے مانگا جواب
- دہلی میں یکم نومبر سے غیر بی ایس-6 گاڑیوں کے داخلے پر پابندی، سی این جی اور برقی گاڑیوں کو چھوٹ
- دہلی میں پٹاخوں پر پابندی: سپریم کورٹ کا وراٹ کوہلی جیسے کھلاڑیوں سے آگاہی مہم میں مدد لینے کا مشورہ
- گیانیش کمار کے خلاف ’عوامی مواخذہ‘: میرا کمار صدارت، ملکارجن کھڑگے قرارداد پیش اور راہل گاندھی کریں گے اختتامی خطاب
- یوپی پی ای ٹی کے باعث کل 30 اکتوبر کو لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں اسکول بند