واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں مزید 14 لاکھ افراد نے اپنی ملازمتیں کھونے کے بعد بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق متعلقہ امریکی محکمے نے بیان میں تصدیق کی ہے کہ لاکھوں نئی درخواستیں گزشتہ ہفتے جمع کرائی گئی ہیں۔ اس سے قبل عالمی وبا کے پھیلاؤ کے بعد صرف ایک ہفتے میں سب سے زیادہ بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں رواں برس مارچ میں جمع کرائی گئی تھیں، جن کی تعداد 69 لاکھ تھی جب کہ گزشتہ 4 ہفتوں کے دوراً اوسطاً 14 لاکھ درخواستیں دائر کی جاتی رہی ہیں، جو تاریخی اعتبار سے بلند شرح ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لاکھوں کارکنوں کے روزگار پر واپس چلے جانے کے باوجود ملک میں بے بے روزگار افراد کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 62 لاکھ ہے جب کہ گزشتہ 4 ماہ کے دوران تقریباً 5 کروڑ 24 لاکھ افراد حکومت سے بے روزگاری الاؤنس لیتے رہے ہیں۔ اعداد شمار کے مطابق اس سے قبل کسی ایک ہفتے کے دوران بے روزگاری الاؤنس لینے والوں کی تعداد کا ریکارڈ 1982ء میں قائم ہوا تھا، جب 6 لاکھ 95 ہزار افراد نے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ واضح رہے کہ امریکی حکومت نے بے روزگار کارکنوں کی مدد کے لیے الاؤنس کے علاوہ 600 ڈالر فی ہفتہ دینے کا بھی اعلان کیا تھا، جس کی مدت رواں ہفتے ختم ہو جائے گی۔ وائٹ ہاؤس اور کانگریس اس سلسلے میں اضافی امداد پر غور کررہی ہیں تاہم فی الحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے کورونا وائرس پر کنٹرول حاصل ہونے سے قبل اس کی صورت حال مزید ابتر ہو سکتی ہے، تاہم ملکی معیشت میں جلد بحال ہونے کی طاقت موجود ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- آئی آر سی ٹی سی معاملہ: لالو پرساد یادو کو راحت، دہلی ہائی کورٹ نے ای ڈی سے مانگا جواب
- دہلی میں یکم نومبر سے غیر بی ایس-6 گاڑیوں کے داخلے پر پابندی، سی این جی اور برقی گاڑیوں کو چھوٹ
- دہلی میں پٹاخوں پر پابندی: سپریم کورٹ کا وراٹ کوہلی جیسے کھلاڑیوں سے آگاہی مہم میں مدد لینے کا مشورہ
- گیانیش کمار کے خلاف ’عوامی مواخذہ‘: میرا کمار صدارت، ملکارجن کھڑگے قرارداد پیش اور راہل گاندھی کریں گے اختتامی خطاب
- یوپی پی ای ٹی کے باعث کل 30 اکتوبر کو لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں اسکول بند