ویب ڈیسک —
صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں آئندہ صدارتی انتخابات موخر کرنے کا ذکر کرتے ہوئے سوالیہ انداز اختیار کیا ہے۔
جمعرات کی صبح اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں، صدر ٹرمپ نے کہاہے کہ ڈاک کے ذریعے ہونے والی رائے دہی سے سن 2020ء کے صدارتی انتخابات ”تاریخ کے سب سے زیادہ ناقص اور دھوکہ دہی کے شکار انتخابات ہونگے”۔
اپنی ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ”یہ بات امریکہ کے لئے شرمندگی کا باعث ہوگی”۔
صدر ٹرمپ نے تین سوالیہ نشان لگا کر مکمل کئے گئے اپنے ٹویٹر پیغام میں پوچھا ہے کہ ” اُس وقت تک انتخابات کو موخر کر دیا جائے، جب تک لوگ مناسب، درست اور محفوظ انداز میں سلامتی کے ساتھ ووٹ نہ دے سکیں؟”
کیا صدر ٹرمپ کے پاس اس سال تین نومبر کے انتخابات کو موخر کرنے کا اختیار موجود ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لئے تین نومبر کی تاریخ طے ہے۔ اور یہ تاریخ کانگریس آئین کے تحت مقرر کرتی ہے۔
صدارتی تاریخ کے ماہر اور امریکی تاریخ پر دس کتابوں کے مصنف، مائیکل بیش لوس نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ”انتخابات کو موخر کرنے سے امریکی قانون کی خلاف ورزی ہو گی”۔
بیش لوس نے کہا کہ خانہ جنگی اور دوسری جنگ عظیم سمیت امریکی تاریخ میں کبھی بھی انتخابات کو موخر کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔
امریکہ کی سائیبر سکیورٹی اور انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر، کرس کریبز نے 17 جولائی کو واشنگٹن کے بروکنگز انسٹیٹیوشن میں ایک سوال پر بتایا تھا کہ سن 2020ء کے انتخابات، امریکہ کی جدید تاریخ کے سب سے محفوظ انتخابات ہونگے۔
کریبز کا کہنا تھا کہ کم از کم 92 فیصد امریکی ریاستوں میں اب ایسا نظام موجود ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر ڈالے گئے ووٹ کا کاغذی ریکارڈ بھی موجود ہو، جس سے انتخابی نتائج کی جانچ پڑتال آسان ہو جائے گی اور یہ بھی یقینی ہو جائے گا کہ کوئی بھی گنتی کے بعد اعداد کو تبدیل نہ کر سکے۔
کریبز نے مزید کہا تھا کہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کی وجہ سے، بہت سی ریاستیں ڈاک کے ذریعے رائے دہی کی طرف جا سکتی ہیں، اور 92 فیصد کے عدد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔