بڈھا پسٹ :ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیاہے۔
ہنگری کے نئے وزیر اعظم پیٹر میگیار نے واضح اعلان کیا ہے کہ اگر نیتن یاہو ہنگری کا دورہ کرتے ہیں تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق انٹرنیشنل کریمنل کورٹ پہلے ہی نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کر چکا ہے، اس لیے قانون کے مطابق کارروائی کرنا لازمی ہوگا۔
اسکائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پیٹر میگیار نے کہا کہ اگر کسی بھی ایسے شخص کے خلاف آئی سی سی کا وارنٹ موجود ہے اور وہ ہنگری کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو اسے حراست میں لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہنگری آئی سی سی کی رکنیت برقرار رکھے گا اور سابق حکومت کی جانب سے عدالت سے الگ ہونے کا فیصلہ منسوخ کر دیا جائے گا۔
پیٹر میگیار کا یہ بیان اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ حال ہی میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ہنگری آنے کی دعوت دی تھی۔
اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے مختلف ممالک کے لیڈروں کو 1956 کی تحریک کی 70ویں سالگرہ کی تقریب میں مدعو کیا تھا، جس کے تحت نیتن یاہو کو بھی دعوت دی گئی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ہنگری آئی سی سی کے قوانین سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے گا۔
یاد رہے کہ سال 2024 میں آئی سی سی نے نیتن یاہو کے خلاف فلسطین میںجنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔ اسی وارنٹ کی بنیاد پر اب یہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے اور ہنگری کے نئے موقف نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔