تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ایرانی فوج نے عراق کی سرحد پر پہاڑی علاقوں میں قائم کرد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوںپر بم باری کی ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران توپ خانے، ڈرون اور اسمارٹ میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ ایران کی بری فوج کی اس تازہ کارروائی میں درجنوں کرد جنگجوئوں کوہلاک کیا گیا ہے۔ حملوں کی قیادت سپاہ پاسداران انقلاب کی بری فوج کے کمانڈر محمد پاکپور نے کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق تہران حکومت کے مخالفین کے خلاف یہ ایران کی اب تک کی ایک بڑی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف کردوں کی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہینگاو آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس نے اطلاع دی ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں کسی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بم باری میں سرحدی دیہات کے لوگوں کی چراگاہوں، باغات اور کھیتوں کونقصان پہنچا ہے۔ عراقی کردستان میں رداو ریڈیو کے مطابق ایرانی فوج نے بربزین گاؤں میں ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹھکانوں پر بم گرائے۔ تہران اور انقرہ مسلح کرد گروپوں کے خلاف کئی سال سے کارروائیاں رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں ملک اپنی کارروائیوں کو قانون کے مطابق آپریشن قرار دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- الیکشن کمیشن کی دہلی اور مہاراشٹر سمیت چھہ ریاستوں میں ووٹر لسٹ کی حتمی تاریخ میں توسیع
- گردابی طوفان ’ارنب‘ سے آندھرا اور اڈیشہ میں تباہی پر پرینکا گاندھی کا اظہار ہمدردی، کئی ریاستوں میں اب بھی موسم اثرانداز
- آئی ڈی بی آئی-فیئر فیکس معاہدہ: ’مودی کے وقت میں پہلے بولی دیکھی گئی، پھر قیمت طے ہوئی‘، راہل گاندھی کا تلخ تبصرہ
- اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے سسٹمز ہیک کرنے کا دعویٰ
- یوٹیوب سے کمائی کی رقم نکلوانے کی حد میں بڑی تبدیلی کی آزمائش