حکومت کے اخراجات اتنے بڑھ گئے کہ اربوں روپے کے قرضے بھی کم پڑ گئے، نئے نوٹ چھاپنا پڑے،
ایک ماہ میں 207 ارب روپے کے نئے نوٹ جاری کیے گئے،
ملک میں زیر گردش نوٹوں کی مالیت ملکی تاریخ میں پہلی
بار 6 ہزار 885 ارب روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
اربوں روپے کے قرضے بھی فروری کے دوران حکومتی اخراجات پورے نا کر سکے،
نئے نوٹ چھاپنے کا سلسلہ تیز ہو گیا،، اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار کے مطابق فروری
کے دوران حکومت کی طرف سے مجموعی طور پر 206 ارب 89 کروڑ
40 لاکھ روپے کے نئے نوٹ جاری کیے گئے،، جس کے باعث اس دوران ملک
میں زیر گردش نوٹوں کی مجموعی مالیت 68 کھرب
84 ارب 92 کروڑ 40 لاکھ روپے کی رکارڈ سطح پر پہنچ گئی،
پی ٹی آئی کی حکومت اپنے 30 ماہ میں اب تک مجموعی طور
پر 20 کھرب 37 ارب روپے کے نئے نوٹ جاری کر چکی ہے،
جبکہ مسلم لیگ ن حکومت نے اپنے 60 ماہ میں 25 کھرب 52 ارب روپے،،
اور پیپلز پارٹی نے اپنے 60 ماہ میں 10 کھرب 11 ارب روپے کے نئے نوٹ جاری کیے تھے۔۔
فروری کے دوران حکومت نے بجٹ اخراجات پورے کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے 180 ارب 93 کروڑ روپے کا نیا قرض بھی لیا،، رواں مالی سال کے دوران اب تک حکومت بجٹ اخراجات پورے کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے مجموعی طور پر 11 کھرب 75 ارب روپے قرض لے چکی ہے۔۔