نائن الیون متاثرین افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ چاہتے ہیں، امریکی میڈیا

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے متاثرہ خاندان چاہتے ہیں کہ امریکا کے پاس موجود افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کے طور پر دیے جائیں۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے وہ وفاقی عدالت کو کابل کو رقم واپس دینے یا اسے متاثرین کے اہلِ خانہ میں تقسیم کرنے سے قومی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات سے آگاہ کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق ’امریکا کا محکمہ انصاف نائن الیون مدعیان کے وکلا کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ اگر حکومت افغانستان کو رقم واپس نہ کرے تواسے متاثرین میں تقسیم کرنے کا معاہدہ کیا جاسکے‘۔

اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’تجویز پر غور کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل، حکومت کے اداروں سے رابطہ کر رہی ہے‘۔

یاد رہے کہ 20 سال قبل 9/11 کے واقعے کے بعد کم و بیش 150 متاثرہ خاندانوں نے اپنے نقصان کے معاوضے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، واقعے میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس قانونی دعویٰ میں القاعدہ اور طالبان کو نامزد کیا گیا تھا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی اس لیے انہیں معاوضے کی بھی ادائیگی کرنی چاہیے۔

ایک دہائی قبل عدالت نے مدعا علیہان کو واقعے میں ملوث پایا اور انہیں 7 ارب ڈالر مالیت کا زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم فیصلہ علامتی ظاہر ہوا کیونکہ نائن الیون کے فوری بعد امریکا نے افغانستان پرحملہ کیا اور طالبان کا تخت الٹتے ہوئے القاعدہ کو ختم کردیا تھا۔

رواں سال 15 اگست کو طالبان واپس اقتدار میں آئے اور دعویٰ کیا کہ نیویارک میں امریکی وفاقی ذخائر میں منجمد افغان مرکزی بینک کے تقریباً 7 ارب ڈالرز کے اثاثوں پر ان کا حق ہے۔

منبع: ڈان نیوز

The post نائن الیون متاثرین افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ چاہتے ہیں، امریکی میڈیا appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں