حالیہ ہفتوں میں، پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو زمینی و جغرافیائی سیاست سے زمینی معاشی سیاست کی طرف موڑنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس حقیقت کے بعد کے دنیا کی بڑی طاقتوں کے مابین تزویراتی مقابلے سے دنیا کا امن برباد ہوا ہے اور یہ عمل سفارت کاری کو بھی غیر یقینی بنارہا ہے جس کےبعد معاشی سفارت کاری کا عمل ہی کسی حد تک اہمیت کا حامل رہ جاتا ہے۔ جغرافیائی معیشت سے مراد اپنی جغرافیائی حیثیت کو معاشی فائدے کے لیے استعمال کرنا۔ پاکستانی حکومت کی یہ خواہش سمجھ میں آتی ہے کیونکہ جغرافیائی معیشت پر بھروسہ چین اور امریکہ کے مابین مقابلے کو کم کرنے میں مدد دے گا ۔
اگر پاکستان یہ سوچتا ہے کہ وہ جغرافیائی معیشت سے اپنے مفادات کو بڑھا لے گا تو اسے یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ بین الاقوامی نظام اسے ایسا کرنے سے روکے گا اور اس کی بڑی وجہ جغرافیائی سیاست ہے جسے ہر گز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ افغانستان، ایران، چین اور بھارت جیسے ہمسائیوں کی موجودگی پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کو چیلنجز سے بھرپور بناتی ہے۔ کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے بدترین دشمن بھارت اور پاکستان 2019 میں بھی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ اس کشیدگی میں پاکستان نے دعوٰی کیا تھا کہ اس نے بھارت کے جو جنگی طیارے مارگرائے ہیں اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے خبردار کیا تھا کہ دو ایٹمی قوتوں کے مابین یہ کشیدگی خطرناک ہوسکتی ہے۔ چین اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی مخاممت کی وجہ سے جغرافیائی سیاست دونوں ممالک کے مابین مسلسل کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے اور پاکستان اور بھارت نیا جنگی میدان بن سکتے ہیں۔ جغرافیائی معیشت اس طرح کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
امریکہ چین دشمنی
امریکی نقطہ نگاہ سے بھارت چین کے توازن کے لیے ایک طاقتور حلیف ہے۔ بھارت دنیا میں دوسری بڑی آبادی رکھتا ہے اور اس کی معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور بھارت کی موجودہ پوزیشن امریکہ کی انڈو پیسفک میں چین کا رستہ روکنے کی حکمت عملی کے لیے مثالی ہے۔ امریکی نمائندگان ایک طویل عرصے سے یہ بحث کرتے چلے آرہے ہیںہ بھارت کو کسی ایک طرف کا انتخاب کرنا ہوگااور انہوں نے اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ بھارت امریکہ کا حلیف ہی بنے گا۔ اگرچہ بھارت اس صورتحال سے بچنے کی کوشش کرے گا مگر زمینی حقائق بھارت کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیں گے۔ جیسا کہ آسٹریلیا اوکس کا حصہ بننے پر مجبور ہوگیا ۔ چین اور بھارت کے مابین 2020 کی جھڑپیں اس بات کا ہلکا سا اشارہ ہیں ۔
چونکہ امریکہ قانون ساز بھارت کی اہمیت کو ایک ویسع جغرافیائی و سیاسی تناظر میں دیکھتے ہیں اس لیے وہ بھارت کو سی اے اے ٹی ایس اے پابندیوں سے ماورا قرار دینے کی تجویز دیتے ہیں جس کے تحت بھارت روس سے ایس 400 ڈیفنس نظام خرید رہا ہے۔ اسی طرح بھارت اور امریکہ کے بڑھتے تعلقات کے پیش نظربھارت جدید ہتھیار حاصل کرے گا اور چین کے خلاف اپنے اسلحہ کو مستحکم بنائے گا۔ چین کی نگاہ میں پاکستان بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کے بغیر چین کا بیلٹ اور روڈ منصوبہ ناممکن ہے ۔ اس وقت پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری کا حجم 65 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ پاکستانی عوام نے ماضی سے سبق سیکھا ہے کہ کس طرح امریکہ مشکل وقت میں پاکستان کو تنہا چھوڑ دیتا ہے اور 9/11 میں اہم ترین کردار کے باوجود امریکہ اسلام آباد کو اہمیت نہیں دیتا۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد امریکہ کی نظروں میں پاکستان اہمیت مزید کم ہوگی۔ اس صورتحال میں جغرافیائی معیشت پاکستان کو خطے میں استحکام لانے میں مدددے سکتی ہے تاہم یہ جغرافیائی معیشت پاکستان کے سیکورٹی مسائل کا حل نہیں ہوسکتی۔
کمزور پہلو
آنے والا وقت پاکستان اور بھارت دونوں کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنی کمزوریوں پر قابو پائیں اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔ اس حوالے سے پاکستان اور بھارت دونوں کی کچھ کمزوریاں ہیں۔ بھارت میں مودی سرکار کی اقلیتیوں خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف انتہا پسند پالیسیاں اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی سیاستدانوں کو اس بات کا ادراک ہوگا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد پالیسیاں ان کے لیے کس قدر نقصان دہ تھیں۔ جب کہ پاکستان کا کمزور پہلو افغانستان ہے۔ پاکستان پہلے ہی 45۔1 ملین افغان پناہ گزین رکھتا ہے اور امریکی انخلا کے بعد اور طالبان حکومت کی آمد کے ساتھ ہی افغانستان اس وقت غربت اور قحط کے دہانے پر ہے۔ افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے حق میں ہے اور اس حوالے سے افٖغانستان میں معاشی سرگرمیوں کا آغاز بھی پاکستان کے سر ہے۔ بالفاظ دیگر پاکستان کو طالبان کو اس بات پر قائل کرنا ہوگا کہ وہ حقیقت پسندانہ پالیسیاں اختیار کریں۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان کو دنیا کو بھی اس بات پر قائل کرنا ہوگا کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کر کے انہیں ایک حقیقت سمجھیں۔
پاکستان کے جغرافیائی و سیاسی پہلو یہ ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کو بہت سارے خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہوگا اور خطے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کر کے پاکستان ان چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے۔ مثال کے طور پاکستان کو یورپین مارکیٹ سے جوڑے کے لیے انفراسٹرکچر کی سرمایہ کاری پاکستان کے لیے ایک اضافی موقع ہوگا ۔ خطے کا ادغام اور ایک مستقل ترقی کی مشترکہ کوشش پاکستان کو استحکام بخش سکتی ہے۔ جیسا کہ اگر پاکستان ایران کے ذریعے ترکی تک ایک ٹرین سپلائی لائن تعمیر کرتا ہے تو اسے یوروپین مارکیٹ تک رسائی میں آسانی ہوجائے گی۔ اسی طرح بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری پاکستان میں بین الاقوامی ٹریڈ کو مزید ہوا دے گی۔ اور پھر خلیج وسطٰی کے ممالک اور افریقہ تک پاکستان کی سپلائی ممکن ہوسکے گی۔
جمعرات، 20 جنوری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post پاکستان کے جغرافیائی معاشی محور کی تذویراتی حدود: شفقنا خصوصی تجزیہ appeared first on شفقنا اردو نیوز.