ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جاپانی وزیر اعظم کا دورہ بھارت

نئی دہلی: جاپانی وزیر اعظم کا بھارت کا دو روزہ دورہ شروع ہو رہا ہے اور وہ یہاں 42 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر سکتے ہیں۔

یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب یوکرین پر روسی حملے کے سبب دنیا غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہے۔جرمن ٹی وی رپورٹ کے مطابق جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا ہفتہ کو دو روزہ بھارت – جاپان سالانہ سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے۔ گزشتہ برس وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کشیدا کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی ان کی یہ پہلی ملاقات ہے۔

بھارت اور جاپان کے درمیان آخری بار سالانہ سربراہی کانفرنس ٹوکیو میں 2018 میں ہوئی تھی اور اس کے بعد سے یہ پہلی کانفرنس ہو گی۔ کورونا وائرس کی وبا کے سبب یہ سالانہ کانفرنس بھی اب تک تعطل کا شکار رہی۔ ایک معروف میڈیا ادارے نکئی ایشیا کے مطابق جاپان کے وزیر اعظم بھارت کے اپنے پہلے دورے کے دوران آئندہ پانچ برسوں کے لیے 42 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے ایک منصوبے کا اعلان کر سکتے ہیں۔اس کے مطابق، جاپانی وزیر اعظم اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے دوران تقریبا 300 ارب ین کے قرض کی بھی منظوری دے سکتے ہیں۔ توانائی سے متعلق تعاون میں کاربن میں کمی کی دستاویزات پر بھی دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔سن 2014 میں اس وقت کے جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے نے ساڑھے تین کھرب ین کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا جسے فومیو کشیدا نے بڑھا کر پانچ کھرب ین یعنی 42 ارب امریکی ڈالر کر دیا ہے۔ بھارت اور جاپان کے درمیان سربراہی اجلاس کا یہ 14واں ایڈیشن ہے۔

اس موقع پر بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر، جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا نئی دہلی کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ یہ نئی دہلی میں 19 سے 20 مارچ کے درمیان ہو گی۔ یہ کانفرنس ان دونوں رہنماوں کی پہلی ملاقات ہو گی۔نئی دہلی کے مطابق بھارت اور جاپان کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کے دائرے میں کثیر جہتی تعاون ہے۔ یہ سربراہی اجلاس دونوں فریقوں کو مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا جائزہ لینے اور اسے مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس کی مدد سے، ہند – بحرالکاہل خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنی شراکت داری کو مزید آگے بڑھایا جا سکے گا۔ بھارت اور جاپان نے حالیہ برسوں کے دوران اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔ دونوں کے درمیان آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل میں سب کی شمولیت کے سوال پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ علاقائی تناظر میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں بھی کافی پیش رفت ہوئی ہے۔سربراہی اجلاس کے دوران دونوں رہنما اپنے سفارتی تعلقات اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کا جائزہ لیں گے۔ مودی اور کشیدا کی بات چیت میں یوکرین کی صورتحال پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق ٹوکیو نے یوکرین پر روسی حملوں کی وجہ سے ماسکو کی جو پسندیدہ ملک کا درجہ دے رکھا تھا اسے اب منسوخ کر دیا ہے۔ مغربی ممالک کی ہی طرح جاپان نے بھی روس پر کئی طرح کی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔لیکن اس معاملے پر بھارت کا موقف جاپان سے بالکل مختلف ہے اور مودی حکومت نے یوکرین اور روس کے تنازعے پر جو موقف اختیار کیا ہے وہ عملی طور پر روس کے مفاد میں ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی سمیت متعدد اجلاس ہو چکے ہیں۔ اس میں انسانی حقوق کے حوالے سے روس کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کرنے کے ساتھ ہی کئی اہم پہلوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔تاہم مغربی ممالک کے اصرار کے باوجود بھارت نے روس کے خلاف ووٹ نہیں دیا بلکہ وہ اس عمل سے غیر حاضر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روس نہ صرف بھارت کو دفاعی ساز و سامان مہیا کرتا بلکہ اس کے رکھ رکھا میں بھی اس کی مدد کرتا ہے۔ اس حوالے سے روس کے ساتھ بھارت کے دیرینہ تعلقات ہیں

The post جاپانی وزیر اعظم کا دورہ بھارت appeared first on Daily Jasarat News.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں