پاکستان کی 80فیصد آبادی کینسر کی طرف لے جانے والے ایچ پائیلوری سے متاثر

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے سانس کے ذریعے (ہیلی کوبیکٹر پائیلوری یا عرف عام میں) ایچ پائیلوری کی تشخیص کا تیزترین، سہل اور زیادہ مؤثر ٹیسٹ یوریا بریتھ(یوبی ٹی) انتہائی کم نرخوں پر متعارف کرادیا۔ سستاپہلے مرحلے میں ٹیسٹ کی سہولت ڈاؤ مین لیب سمیت 51 مقامات پر دستیاب ہوگی، اندرون سندھ اور بلوچستان کےعوام بھی جلدہی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے(یاد رہے کہ ڈاؤ کی سندھ اور بلوچستان میں کل59برانچز ہیں جوکہ بہت رعایتی نرخوں پر تشخیصی ٹیسٹ کی سہولتیں فراہم کر رہی ہیں)۔ٹیسٹ کی سہولت افتتاحی تقریب میں بات کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ پاکستان میں 80 فیصد آبادی ایچ پائیلوری سے متاثر ہے جس کے لیے مؤثراور فوری نتائج کے حامل ٹیسٹ کی سہولت میسر نہیں تھی۔ ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ ایچ پائیلوری کی بعض اقسام سے معدے کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اورتاخیر سے تشخیص ہونے کے باعث ایچ پائیلوری کے انفیکشن سے معدے میں السر ہوجاتا ہے۔ ریسرچ سے ثابت ہوتا ہے کہ چھوٹی آنت میں 90 فیصد سے زائد السر کی وجہ ایچ پائیلوری ہے اسلئے اس کی تشخیص فوری اور سہل کرنے کی ضرورت تھی جبکہ یوریا بریتھ ٹیسٹ 98 فیصد مؤثر ہے۔ یوریا بریتھ ٹیسٹ میں استعمال مشین پوائنٹ آف کیئر (POC-one) کی افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر کے علاوہ ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر زاہد اعظم، ڈائریکٹر کمرشل آپریشنز ڈاؤ لیب سلیم چوہان، چیف ایگزیکٹو آفیسر اوٹسوکا پاکستان حنیف ستار، بزنس یونٹ ہیڈ معین الرحمن، ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز طارق شاہد، پروڈکٹ مینیجر عمارہ ابوبکر، فیلڈ مینیجر سہیل حسین ودیگر بھی موجود تھے۔ پروفیسر محمد سعید قریشی نے اس موقع پر کہا کہ ایچ پائیلوری کی تشخیص کے یوں تو ایک سے زائد طریقے موجود تھے جس میں خون اور فضلے کے ذریعے بھی اس کی تشخیص کی جاتی تھی۔ خون سے تشخیص کا طریقہ اب تقریباً غیر مؤثر ہوچکا ہے چونکہ پاکستان میں کھانے پینے کی عادات اور غیر صحت مند کھانے پینے کی اشیاء کے استعمال سے معدے کے امراض خصوصاً ایچ پائیلوری کے کیسز بڑھ رہے ہیں، اس لئے فوری تشخیص اور علاج ضروری ہے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے اوٹسوکا پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حنیف ستار نے کہا کہ اوٹسوکا یوں تو نس کے ذریعے انسانی جسم میں منتقل ہونے والی دوائیں بنانے کے حوالے سے معروف نام ہے، البتہ امراض کی تشخیص کی مشکلات کے پیشِ نظر اب مشینوں کی جانب بھی توجہ دی ہے اور دل کی شریانوں میں خون کی روانی میں رکاوٹ ختم کرنے کے لئے اسٹنٹ بھی متعارف کرائے ہیں، قبل ازیں (POC-one) مشین کے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ خون کے ذریعے ایچ پائیلوری کی تشخیص مؤثر نہ ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو ایک مرتبہ ایچ پائیلوری ہونے کے بعد علاج کے باوجود خون میں اس کے اثرات رہتے ہیں اس لئے خون کا ٹیسٹ اکثر مثبت آتا ہے اس کو ڈاکٹرز کی اصطلاح میں فالز پازیٹو(False-Positive) کہا جاتا ہے۔ (POC-one) مشین دنیا بھر میں چار ہزار 65 مقامات پر نصب کی گئی ہے۔ پاکستان میں تمام بڑے شہروں میں نجی اسپتالوں اور لیبارٹریز میں موجود ہے لیکن سرکاری شعبے میں پہلی مرتبہ پاکستان بھر میں ڈاؤ یونیورسٹی میں متعارف کرائی گئی ہے اس طریقے سے اس ٹیسٹ کی عام آ دمی تک پہنچ ممکن ہوجائے گی۔ انسانی فضلے کے ذریعے ایچ پائیلوری کی تشخیص مشکل اور غیر محفوظ ہے۔ نتائج کے حصول کے لئے 24 گھنٹے سے زائد انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یوریا بریتھ ٹیسٹ سے 20 منٹ میں نتائج مل جاتے ہیں اور طریقہ بھی سادہ ہے جس میں صرف خالی بیگ میں سانس لینا پڑتا ہے کیونکہ ایچ پائیلوری انفیکشن میں جراثیم جسم میں موجود یوریا کو کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کر دیتا ہے اور مشین آپ کے جسم میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار زیادہ دکھاتی ہے، بریفنگ میں بتایاگیا کہ کئی دہائیوں سے ڈاکٹر زذہنی دباؤ، مرچ مصالحوں سے بھرپور کھانوں، تمباکو نوشی وغیرہ جیسی عادات کو معدے کے السر کی وجہ سمجھتے رہے لیکن 1982 میں سائنسی تحقیق میں ایچ پائیلوری کی دریافت سے پتہ چلا کہ معدے کے اکثر السر اس جرثومے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر چیف ایگزیکٹو آفیسر ا وٹسوکا حنیف ستار نے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کو شیلڈ اور گلدستہ پیش کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں