ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

17 جولائی اگلے انتخابات کی ریہرسل

جیسے جیسے پنجاب کے ضمنی انتخابات نزدیک آ رہے ہیں، ویسے ویسے سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاسی بیان بازی میں شدت آ رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 17 جولائی کے انتخابات مستقبل کی قومی سیاست کا رخ متعین کریں گے۔ ان انتخابات کا انعقاد ان اراکین کے حلقوں میں کیا جا رہا ہے جنہیں اپنی ہی جماعت کے خلاف ووٹ دینے پر عدالتی احکامات کے تحت عہدوں سے معزول کر دیا گیا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں عدالتوں کو سب سے بڑے صوبے کے سیاسی معاملات کو درست کرنے کے لیے میدان میں آتے دیکھا گیا جس سے مذکورہ انتخابات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
اس وقت پنجاب میں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز ہیں جنہیں 17 جولائی کو ہونے والے اس ضمنی الیکشن میں کم ازکم 9 نشستوں پر کامیابی درکار ہے اور عدالت عظمیٰ کے حکم پر 22 جولائی 2022 کو وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لئے بھی ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنا ہوگی، بصورت دیگر حالات مختلف ہوسکتے ہیں کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں عمران خان وہ واحد وزیراعظم تھے جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی لہٰذا پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں ان ضمنی الیکشن کو جیتنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی اپنی کمزور حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے بھرپور انتخابی مہم مریم نواز سے چلوا رہی ہے تاکہ ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔
ان ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے زیادہ تر نئے چہروں کو ٹکٹ دیے ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عموما اًنہی امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں جو پاکستان تحریک انصاف سے منحرف ہو کر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا حصہ بنے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں دیگر جماعتوں کی طرح تحریک لبیک پاکستان بھی بھرپور انتخابی مہم چلاتی نظر آ رہی ہے جس نے حال ہی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 240 کراچی پر ضمنی الیکشن میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے صرف 65 ووٹوں سے شکست کھائی ہے، تحریک لبیک پاکستان کے امیر حافظ سعد حسین رضوی اس انتخابی مہم کو خود چلا رہے ہیں اور وہ ہر حلقے میں جاکر بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں.
یاد رہے کہ پہلی بار 2017 میں بننے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے الیکشن 2018 میں اپنے مرحوم بانی و قائد علامہ حافظ خادم حسین رضوی ؒکی سربراہی میں حصہ لیا اور ووٹوں کے اعتبار سے پورے پاکستان میں چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے کراچی سے سندھ اسمبلی کی دو نشستیں بھی حاصل کیں، تحریک لبیک پاکستان کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اسی وجہ سے عام رائے یہی ہے کہ تحریک لبیک پاکستان بھی اس ضمنی الیکشن میں بڑا سرپرائز دے سکتی ہے۔
عام حالات میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے لئے ووٹوں کا حصول ایک عام سی بات تھی، لیکن گذشتہ دو ماہ میں معاملات ڈرامائی تبدیلی سے گزرے ہیں۔ اول یہ کہ حالیہ مہینوں میں عمران خان کی شہرت میں اضافہ ہوا ہے اور اندرونی وبیرونی سازش کا شکار ہونے کے بیانیے کو خاص کر شہری متوسط طبقے میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ایک حالیہ گیلپ سروے کے مطابق بھی عمران خان کی شہرت کی شماریات اپریل 2022 ء کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہیں جب وہ طاقت سے بے دخل کئے گئے تھے۔
اتحادی جماعتیں حالیہ سیاسی بحران کے دوران ایک متبادل بیانیہ پیش کرنے میں ناکام رہیں جس نے اس معاملے کو تقویت دی۔ پھر یہ کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے خاتمے سے مہنگائی کے ایک باقاعدہ سلسلے کا آغاز اور حکومت کے لئے ایک مشکل صورتحال ابھر کر سامنے آئی۔ آنے والے دنوں میں مہنگائی کی موجودہ، 21 فیصدی شرح میں مزید اضافہ عوامی غصہ کو ہوا دے کر اسے انتخابات پر اثر پذیر بنا سکتا ہے۔ بدترین لوڈشیڈنگ اور بجلی کی تقسیم میں واضح طور پر موجود رکاوٹیں اس کے علاوہ ہیں۔ تقریباً دیوالیہ حکومت زرمبادلہ کی تلاش میں ہے تاکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کو ممکن بنا سکے، کیونکہ ایسا کئے بغیر پاور پلانٹس کو ان کی موجودہ صلاحیت کے مطابق چلایا نہیں جاسکے گا۔
تیسرا نکتہ یہ کہ زیادہ تر انتخابی حلقوں میں پی ٹی آئی نے ٹکٹس مضبوط ‘الیکٹبلز’ کو دیے ہیں۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ عمران خان نے ‘پاور پالیٹیکس’ کھیلنے کا ہنر اپنے ماضی کے ‘بہی خواہوں’ اور سہولت کاروں سے سیکھ لیا ہے۔ گفتگو کی زورِ بیانی ان کی مکرّر تقریروں تک محدود جبکہ زمین پر موجود افرادِ کار کسی بھی دوسری حریص جماعت کی مانند مصروف عمل ہیں۔ اس حوالے سے آخری نکتہ یہ کہ شعلہ بیاں مریم نواز کے علاوہ نون لیگ میں انتخابی مہم کو لے کر چلنے والے عناصر نظر نہیں آتے۔ نواز شریف کی عدم موجودگی اور شہباز شریف کی روزمرہ امور میں گہری مصروفیت پارٹی کی سپورٹ بیس کو یکجا کرنے کی بھاری ذمہ داری مریم نواز پر ڈال چکی ہے۔
یہ تمام صورتحال نون لیگ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، پنجاب کے مانوس پانیوں کو عبور کرنے سے لے کر اپنے ہی لوگوں کی نظر میں نئے بیانیے کے حوالے سے جانچے جانے تک۔ ایسے ہی امتحان کا حمزہ شہباز کو سامنا ہے، غیر متاثر کنُ وزیراعلیٰ کا ان کا میڈیا امیج یقیناً اس صورتحال میں معاون ثابت نہیں ہوگا۔
عام طور پر ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ضمنی الیکشن میں حکومت وقت کامیاب ہوجاتی ہے کیونکہ سرکاری مشینری حکومت وقت کے ہاتھ میں ہوتی ہے مگر اس ضمنی الیکشن کی بھرپور مہم کو دیکھتے ہوئے اس بات کا کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس ضمنی الیکشن میں حکومت وقت یعنی پاکستان مسلم لیگ (ن) و اتحادی با آسانی کامیاب ہوجائیں گے بلکہ ان ضمنی الیکشن میں چند نشستوں پر انتہائی دلچسپ اور کانٹے دار مقابلے متوقع ہیں، اگر ہم اس ضمنی الیکشن کو پنجاب میں آئندہ الیکشن 2023 کی ریہرسل کہیں تو یہ غلط نہ ہو گا اور یہ بھی درست ہے کہ 17 جولائی 2022 کو ہونے والے ضمنی الیکشن کا نتیجہ آئندہ قومی سیاست پر کافی گہرا اثر ڈالے گا۔
ہفتہ، 16 جولائی 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post 17 جولائی اگلے انتخابات کی ریہرسل appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں