پاکستان میں مون سون بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

حالیہ مون سون بارشوں نے پاکستان میں گزشتہ 30 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے
مطابق 30 سالہ اوسط ریکارڈ کے مقابلے میں ملک بھر میں 133 فیصد سے زائد بارشیں ہوئیں۔

سب سے زیادہ بلوچستان میں 305فیصد اور سندھ میں 218 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ اسی
طرح پنجاب میں 101 فیصد، خیبرپختونخواہ میں26 فیصد، گلگت بلتستان میں68 اور آزاد جموں کشمیر
میں9 فیصد زائد بارشیں ہوئیں۔

ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے اموات کی کل تعداد 549 اور زخمیوں کی تعداد 628 ہو
چکی ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں بھی مختلف واقعات میں11 اموات رپورٹ ہوئیں۔
سیلاب اور بارشوں کے باعث 46،219 مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن بھی جاری ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر
سیلاب متاثرین کیلئے فی کس 10 لاکھ کے امدادی چیک کی ترسیل کی جاری ہے۔ این ڈی ایم اے کی
جانب سے ایس ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے سندھ اور بلوچستان کو امدادی سامان خیمے، ترپالیں، کمبل اور
مچھر دانیاں حوالے کی جاچکی ہیں۔
این ڈی ایم اے نے نیسلے کی جانب سے60 ہزار لیٹر پینے کا پانی پی ڈی ایم اے بلوچستان کے حوالے
کیا۔ نیسلے کا پانی کوئٹہ، جھل مگسی، اور جعفرآباد میں تقسیم کیا جائے گا۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان نے100خیمے ہرنائی کی انتظامیہ کو دیے۔ انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی
جانب سے امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ تنظیموں نے آفت زدہ علاقوں میں میڈیکل
کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں۔

باقی دریاؤں میں پانی کا بہاؤ اس وقت معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ تمام ڈیمز میں بھی پانی کی
صورت حال معمول کے مطابق ہے۔

داسو ڈیم کے قریب اچار نالہ کے مقام پر شاہراہ قراقرم کا کچھ حصہ متاثر ہوا ہے۔ تاہم شاہراہ ہلکی
ٹریفک کیلئے بحال کی جاچکی ہے۔ باقی تمام قومی شاہراہیں اور موٹر ویز فعال ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں