ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تباہ حال پی آئی اے میں مزید سیکڑوں بھرتیوں کی تیاری

قومی انٹرنیشنل ائیرلائن کا کسی زمانے میں سلوگن “باکمال لوگ لاجواب سروس” ہوا کرتاتھا۔ پھر سیاست نے قومی ائیرلائن کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا۔ سیاسی بنیادوں پر باکمال لوگ غائب کرکے بلاوجہ کے لوگ بھرتی کرلئے گئے۔ بلاوجہ کے لوگوں کی وجہ سے لاجواب سروس ایسی ہوئی کہ جس کا جواب پی آئی اے کے پاس بھی نہیں ۔۔ دنیا بھرکی ائیرلائنز دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کررہے ہیں لیکن ملکی ائیرلائن کا بیڑا غرق ہوگیاہے۔ اتنا بیڑا غرق کہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات پورے کرنا ناممکن ہوگیا۔۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ۔۔ بلاوجہ کے باکمال لوگ ہی ہیں ۔۔ بین القوامی پروازیں ہوں یا ڈومیسٹک ۔۔۔ کبھی وقت پر اڑان نہیں بھرپاتیں ۔۔ فضائی میزبان ایسے کہ دیکھ کر ہوش ٹھکانےآجائیں ،،ان کے مزاج ایسے کہ ۔۔۔ کسی ضرورت کے لیے بلالیں تو بعد میں پچھتاوا ہی ہو۔۔ جہاز ایسے کہ کسی چورنگی پر نمائش کے لیے لگے جہاز ہوں جیسے ۔۔ ناشتہ ، دوپہر اور رات کاکھانا ایسا کہ کھاکر پیٹ خراب ہوجائے۔۔ باسی ، بے ذائقہ اور بے رونق ۔۔ پانی ایک سے دوسری بارمانگ لیں تو فضائی میزبان گھورنے لگ جائے ۔۔ اور اتنی تمیز سے پانی دیں جسے پی کر گلہ مزید خشک ہوجائے ۔۔ قومی ائیرلائن کا کمال سفارشی عملہ ایسا کہ یورپ یا کسی بھی امیر ممالک دیکھ کر منہ سے رال ٹپک جائے اور سلپ یونی غائب ہوجائے ۔۔ فضائی میزبان ایسی جانباز کہ کوئی بھی بڑا امیر کینگ ان کی مدد سے منشیات ایسے ممالک میں پہنچا دیں جہاں منشیات کی سزا صرف موت یا عمر قید ہو۔۔۔ جہاز اُڑان بھریں تو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی اللہ ہو الکبر کی سدائیں لگانا شروع کردے ۔۔ ڈولتے ، گندگی سے بھرے ، پرانی سیٹوں والے جہاز ۔۔۔ یہی ہیں آج قومی ائیرلاین کی پہنچان ۔۔ووٹ بینک بڑھانے کی خاطر سیاست کی بھینٹ چڑھنے والے تباہ حال ادارے میں کسی بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ۔۔ ایسے برترین صورت حال میں بھی پی آئی اے نے مزید بھرتیوں کی اجازت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیاہے ۔۔ سپریم کورٹ نے پی آئی اے میں 80 پائلٹس سمیت 250 بھرتیوں کی فوری اجازت دینے کی درخواست مسترد کردی۔
دوران سماعت جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز الحسن نے بہت ہی جاندار سوال اٹھائے جس کا قومی ائیرلائن کے نمائندوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔۔جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ پی آئی اے کے یورپ ، امریکا اور کینیڈا سمیت تمام روٹس تو بند ہوچکے، ڈومیسٹک فلائیٹ کیلئے پی آئی اے میں کوئی بیٹھنا نہیں چاہتا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی کہا کہ مزید 80 پائلٹ کیا کریں گے جب ٹوٹل جہاز ہی 30 ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ مشکل سے ادارہ اپنا خرچہ پورا کر رہا ہے اگر نئے جہاز لیز پر لئے بھی توجہازوں کے پیسے کہاں سے دے گا ؟ ایسا نہ ہو پی آئی اے جہازوں کی قسطیں اور تنخواہوں کیلئے حکومت سے گرانٹ مانگ رہی ہو، چھ ہزار ملازمین کم کیے اب بھرتیاں کرکے دوبارہ حالات وہیں لیجا رہے ہیں۔عدالت نے مزید سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں