لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ 2023 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان کی ریاست اور معیشت عام آدمی کو نہیں اشرافیہ کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ یوکرین اور روس کی جنگ سے کوئلہ 400 فیصد مہنگا ہوا جس سے توانائی کے نظام کو دھچکا لگا۔تاہم بجلی کی پیداوار کے حوالے سے حکومت نے ایک بڑی ری تھنک کی ہے اور اب پاکستان میں بجلی کی پیداوار درآمدی ایندھن پر نہیں ہوگی۔ درآمدی کوئلہ، آر ایل این جی اور تیل کو بجلی کی پیداوار سے باہر کرنا ہوگا۔ ہمارے پاس شمسی اور ونڈ انرجی توانائی کے متبادل ذرائع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدرمیں تیزی سے کمی کے باوجود ستمبر 2022 کے بعد سے بجلی کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا، جس کی وجہ تھر کول سے بجلی کی پیداوار ہے۔ پاکستان کو مہنگے بجلی پلانٹس کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ ری تھنک کرنا ہوگا کہ دنیا کے لیے اپنی معیشت کو کس طرح کھولیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- پی ٹی آئی میں ’مارٹونگے‘ گالم گلوچ کرتے ہیں، شیرافضل نے نئی اصطلاح متعارف کرادی
- وزیراعظم اور جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پیٹرولیم لیوی پر کمیٹی قائم
- عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو نئی ماڈل جیل منتقل کیا جائے گا، عطا تارڑ
- جنوبی وزیرستان :انگور اڈہ میں افغانستان سے فائرنگ و گولہ باری،ایک شخص جاں بحق ،5 زخمی
- حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3روپے کمی کردی، ڈیزل سوا 2 روپے مہنگا