ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

25 دسمبر کی منابست سے مزار قائد کی تزئین و آرائش کا آغاز

  کراچی: بابائے قوم کے یوم ولادت 25 دسمبر کی منابست سے مزار قائد کی تزئین و آرائش کا آغاز کردیا گیا۔

بانی پاکستان کے مزار کی دیکھ بھال اور تزئین وآرائش کا سلسلہ پورے سال جاری رہتا ہے مگر 25 دسمبر کے حوالے سے خاص اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں پیر کو مزار قائد کی تزئین وآرائش کا آغاز کیا گیا جو اگلے دس روز تک جاری رہے گی۔

پہلے مرحلے میں مزار قائد کے 101 فٹ اونچے اور72 فٹ قطر کے گنبد کو 25 ہارس پاور کے بوسٹرزکے ذریعے پانی بلندی پرپہنچاکر دھویا گیا۔ مزار قائد کے گبند کے ساتھ اس کی دیواروں کو بھی دھویا گیا۔ اس سے قبل گنبد کی پالش اورمسلسل دھوپ کی وجہ سے چٹخ جانے والے ماربل کے جوڑوں کی مرمت کا کام مکمل کیا گیا تھا۔

مزار پر پودوں اور درختوں کی تراش خراش کا عمل بھی جاری ہے۔ 63 ایکڑرقبے پرپھیلے بانی پاکستان کے مزارپرنیم، پیپل، جیٹروفا، جونیپرسمیت مختلف اقسام کے 16 ہزاردرخت موجود ہیں۔ مزار قائد پر 12 برس میں دس ہزارکے لگ بھگ نئے درخت لگائے گئے ہیں تاکہ مزارقائد کے سفید سنگ مرمر کو کاربن ڈائی آکسائیڈ اورگرمی کی شدت سے بچایا جاسکے۔

جاری تزئین وآرائش کے دوران پودوں اوردرختوں کی تراش خراش کے علاوہ گھاس کی کٹائی اور زینوں کی ماربل گھسائی کا کام بھی کیا گیا۔ اگلے مرحلے میں پاک چین دوستی کی علامت 80 فٹ طویل فانوس کی صفائی کے علاوہ بانی پاکستان کی قبر کے گرد موجود چاندی کی منقش جالیوں کی صفائی اور پالش کی جائیگی جبکہ دروازوں کے رنگ وروغن کا کام مکمل کیا جائے گا۔

خصوصی دن کی مناسبت سے مزارقائد کے سبزہ زار اور زینوں کی دونوں جانب متعدد اقسام کے خوشنما نئے پودے بھی لگائے جائیں گے۔ 25 دسمبر کو تبدیلی گارڈز کی تقریب ہوگی جس کے بعدگورنر و وزیراعلیٰ سندھ کے علاوہ دیگر اہم شخصیات بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مزارقائد پرحاضری دیں گی۔

مزارقائد کے ریذیڈنٹ انجینئرعلیم شیخ کے مطابق مزارقائد کے گنبد کو دومواقعوں 14 اگست اور 25 دسمبر کو دھویا جاتا ہے جبکہ دیگرتزئین وآرائش اورمرمتی کام پورے سال جاری رہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مزار قائد پر درختوں کی افزائش کا ایک اوراہم مقصد مزارکو موسمیاتی اثرات سے بچانا تھا۔

علیم شیخ نے کہا کہ مزار کے اطراف میں چاروں جانب شہر کی مصروف سڑکیں چل رہی ہیں جس کی وجہ سے کاربن ڈائی اکسائیڈ کی بڑی مقدار کی وجہ سے مزارقائد کا سفید براق سنگ مرمر ماند پڑجاتا یا پھراس پرکالک چپک جاتی۔ اس اقدام کے خاطرخواہ نتائج نکلے کیونکہ بڑی تعداد میں درختوں کی موجودگی کے نتیجے میں بانی پاکستان کے مزارمیں موسم بڑی حدتک معتدل رہتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں