الیکشن کمیشن نے اثاثوں اور گوشواروں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر قومی، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کے متعدد سابق ارکان کو نااہل قرار دے دیا۔
الیکشن کمیشن نے مالی سال 2022-23 کے اثاثوں کی تفصیلات بروقت جمع نہ کرانے پر قومی اسمبلی کے 10 سابق اراکین سمیت سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے 14 سابق ممبران کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا۔
فیصلے کے مطابق یہ سابق اراکین اس وقت تک کسی بھی عام، ضمنی یا سینیٹ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے جب تک وہ اپنے مالی گوشواروں کی تفصیلات فراہم نہیں کر دیتے۔
نااہل قرار دیے جانے والے قومی اسمبلی کے سابق اراکین میں خرم دستگیر خان، محسن نواز رانجھا، محمد عادل، رانا محمد اسحاق خان، کمال الدین، عصمت اللہ، ثمینہ مطلوب، نصیبہ، شمیم آرا پنہور اور روبینہ عرفان شامل ہیں۔
سندھ اسمبلی کے سابق اراکین عدیل احمد، حزب اللہ بھگیو، ارسلان تاج حسین، عارف مصطفیٰ جتوئی، عمران علی شاہ، علی غلام اور طاہرہ جبکہ بلوچستان اسمبلی کے سابق اراکین میر سکندر علی، میر محمد اکبر، سردار یار رند، عبدالرشید، عبدالواحد صدیقی، میر حمال اور بی بی شاہینہ بھی نااہلی کی زد میں آ گئے۔