کوئٹہ:بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پہیہ جام اور شٹرڈاو ¿ن ہڑتال کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے 200 سے زیادہ رہنماو ¿ں اور کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پہیہ جام اور شٹرڈائون ہڑتال کوئٹہ میں دو ستمبر کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد اس کے شرکا پر خود کش حملے کے خلاف کی گئی تھی، جس میں 15افراد ہلاک اور 38 لوگ زخمی ہوئے تھے۔
ہڑتال کی وجہ سے نہ صرف کوئٹہ بلکہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج رہے۔چھ سیاسی جماعتوں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال کی حمایت متعدد تاجر اور ٹرانسپورٹ تنظیموں نے بھی کی تھی۔ہڑتال کی وجہ سے کوئٹہ شہر میں تمام اہم تجارتی مراکز بند رہے جبکہ شہر میں ٹریفک بھی نہ ہونے کی برابر تھا۔کوئٹہ شہر میں صبح سے ہی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ان کو بند کر دیا تھا۔
ان رکاوٹوں کو ہٹانے اور کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شہر کے جناح روڈ سمیت مختلف علاقوں میں آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ گرفتاریاں بھی کیں۔ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ محمد بلوچ کے مطابق کوئٹہ شہر سے 200 سے زائد افراد کو دفعہ 144کی خلاف ورزی سمیت دیگر دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔بی این پی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار رہنمائوں میں رحیم زیارتوال، قہار ودان، ملک نصیر شاہوانی، صمند بلوچ، عبدالخالق بلوچ، چنگیز حئی بلوچ کے علاوہ دیگر لوگ شامل ہیں۔