عرب اسلامی وزرائےخارجہ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیلی بیانات مسترد کر دیے گئے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس کے جاری اعلامیہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے کہا کہ فلسطینی عوام کی بےدخلی اور محاصرےکی مذمت کرتے ہیں۔
عرب اسلامی وزرائےخارجہ کمیٹی نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں بستیاں اور گھروں کی مسماری اور زمین پر قبضہ ناقابل قبول ہے۔
عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل اپنے دسویں اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ یہ تمام اقدامات فلسطینی عوام کے حقِ ریاست پر کھلا حملہ ہیں۔ ارکان نے کہا کہ بیت المقدس کے آبادیاتی، تاریخی اور مذہبی تشخص کو بدلنے کی کوششیں اور 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت میں تبدیلی کے اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کی رائے کے خلاف ہیں۔
کمیٹی نے مسجد اقصی کے خلاف بڑھتی ہوئی اسرائیلی خلاف ورزیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء اور حکام کے اشتعال انگیز دورے اور بیانات اور ایسے اقدامات شامل ہیں جن کا مقصد مسجد کو وقت اور جگہ کے لحاظ سے تقسیم کرنا ہے۔
مزید یہ کہ اسرائیل کی جانب سے عائد سخت پابندیوں کی مذمت کی گئی جو مسلمانوں کو آزادانہ طور پر مسجد اقصی تک خاص طور پر رمضان اور مذہبی مواقع پر پہنچنے سے روکتی ہیں۔ اسی طرح بیت المقدس میں عیسائی وجود کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات، جیسے یونانی آرتھوڈوکس پٹریارکیٹ کے بینک کھاتوں کو منجمد کرنا، گرجا گھروں، خانقاہوں اور مسیحی قبرستانوں پر حملے اور مذہبی شخصیات پر تشدد کو بھی مسترد کر دیا گیا۔
عرب وزراء نے اعادہ کیا کہ اسرائیل کو بیت المقدس اور اس کے مقامات مقدسہ پر کوئی خود مختاری حاصل نہیں، اور مشرقی بیت المقدس ریاستِ فلسطین کا دارالحکومت ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی یکطرفہ اقدام یا حملے سے اس کی قانونی حیثیت متاثر نہیں ہو سکتی۔ عرب وزراء نے اس موقف کو بھی دہرایا کہ انصاف پر مبنی پائے دار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب قبضہ ختم ہو اور ایک آزاد، خود مختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
عالمی برادری سے اسرائیلی جرائم پر جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کےحق خود ارادیت اور ریاستی قیام پر زور دیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق 1967کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ فلسطینی ریاست واحد حل قرار دیا گیا ہے۔