واشنگٹن: قطر پر حملے کے معاملے پر ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ دراصل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کیا تھا اور اس میں ان کی کوئی ذاتی مرضی شامل نہیں تھی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا کہ قطر پر یکطرفہ بمباری نہ تو امریکا کے مفاد میں تھی اور نہ ہی خطے میں امن کے لیے سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے کبھی اس فیصلے کی حمایت نہیں کی اور یہ قدم مکمل طور پر اسرائیل کی خواہش پر اٹھایا گیا۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو ہدایت دی ہے کہ قطر کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ قطر ایک خودمختار اور اہم شراکت دار ملک ہے جو امریکا کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے کام کر رہا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے ایک الگ دعویٰ کیا کہ قطری حکام کو حملے سے قبل اطلاع دی گئی تھی، تاہم قطر نے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے واضح الفاظ میں کہا کہ قطر کو کسی قسم کی پیشگی اطلاع نہیں ملی، بلکہ امریکی حکام کی جانب سے کال ہمیں دھماکوں کے بعد موصول ہوئی۔
اس تازہ انکشاف نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ قطر کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ نہ صرف اس کی خودمختاری پر کاری ضرب ہے بلکہ خطے میں مزید بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
ٹرمپ کے بیان نے اسرائیلی قیادت کی براہِ راست شمولیت کو نمایاں کر دیا ہے، جس پر عرب دنیا اور مسلم ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ ایک سنگین سوال کھڑا کرتا ہے کہ خطے میں طاقت کے کھیل میں کس کے فیصلے اصل کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ معاملہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا کے اندرونی اور اسرائیل کے خارجی فیصلے مشرقِ وسطیٰ میں کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ قطر اب بین الاقوامی برادری سے یہ سوال کر رہا ہے کہ اس کی خودمختاری پر حملے کا اصل ذمہ دار کون ہے اور ایسے اقدامات خطے کے مستقبل پر کیا اثر ڈالیں گے۔