نئی دہلی: عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی صحت کے حوالے سے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں نے ہلچل مچا دی ہے، اب ان کا پہلا باضابطہ ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گزشتہ روز یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ذاکر نائیک ایڈز کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں اور ملائیشیا کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں، کچھ غیر مصدقہ ویب سائٹس اور اکاؤنٹس نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ذاکر نائیک کی اہلیہ فرحت نائیک اور ان کی بیٹی کا ایچ آئی وی ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے، ان جھوٹی خبروں کو تیزی سے پھیلایا گیا جس نے عوام میں تشویش پیدا کر دی۔


سوشل میڈیا پر ذاکر نائیک اور ان کے خاندان سے منسوب جعلی رپورٹس وائرل ہوئیں، لیکن کسی معتبر خبر رساں ادارے یا سرکاری سطح سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی، اس خاموشی نے افواہوں کو مزید تقویت دی۔
اب ذاکر نائیک کے وکیل اکبر الدین عبدالقادر نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اس تمام پروپیگنڈے کو سختی سے رد کر دیا ہے، ڈاکٹر ذاکر نائیک مکمل طور پر صحت مند ہیں اور اپنے گھر پر اہل خانہ کے ساتھ موجود ہیں۔ وہ اپنی دینی و تعلیمی سرگرمیوں میں بدستور مصروف ہیں۔
وکیل نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ خبریں جھوٹ کا پلندہ ہیں، ان کا مقصد صرف عوام کو گمراہ کرنا اور ذاکر نائیک کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے،انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی قسم کی افواہ پر یقین نہ کریں اور منفی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر بھارت میں منی لانڈرنگ، نفرت انگیز تقاریر اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے جھوٹے مقدمات بنائے گئے تھے، مودی سرکار نے ان کے ادارے “اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن” پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، جس کے بعد 2016 میں وہ بھارت چھوڑ کر ملائیشیا منتقل ہوگئے۔