اسلام آباد : پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کو زبردستی روکنے اور درجنوں عالمی انسانی حقوق کارکنان کو گرفتار کرنے کے اقدام پر سخت ردعمل دیا ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر اپنے اہم بیان میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نہ صرف اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے بلکہ عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کرائی جائے اور غزہ پر قابض اسرائیلی محاصرہ ختم کیا جائے تاکہ بے گناہ فلسطینی عوام تک خوراک، ادویات اور بنیادی سہولتیں پہنچ سکیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امدادی کارکنوں کی فوری رہائی ہونی چاہیے اور انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے۔
انہوں نے اپنے بیان میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اقدامات عالمی عدالتی فیصلوں کے بھی منافی ہیں اور دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والے ہیں۔ غزہ کے عوام پر جاری مظالم اور انسانی بحران عالمی برادری کے لیے امتحان ہیں اور وقت آگیا ہے کہ دنیا خاموش تماشائی کا کردار چھوڑ کر عملی اقدامات کرے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔