نئی دہلی: بھارتی عدالت عظمیٰ نے لداخی تعلیم کے اصلاح کار اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو کی طرف سے دائر درخواست پر نوٹس جاری کیا، جس میں قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حالیہ حراست کو چیلنج کیا گیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت، لداخ انتظامیہ اور جودھ پور جیل سے جواب طلب کیا ہے۔یہ معاملہ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بینچ کے سامنے آیا۔ انگمو نے این ایس اے کے تحت ماحولیاتی کارکن کی حراست کو چیلنج کیا اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
وانگچک کو 26 ستمبر کو سخت این ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کا درجہ دینے کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں میں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پانچ افراد ہلاک اور 90 زخمی ہو گئے تھے۔
عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ انتظامیہ کو سونم وانگچک کی مبینہ غیر قانونی حراست کے خلاف دائر درخواست کا جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ حراست سے متعلق دستاویزات اور حکم کی کاپی درخواست گزار وانگچک کی اہلیہ کو فراہم کی جائے۔
سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ سونم وانگچک کو جیل میں مناسب طبی امداد فراہم کی جائے۔ عدالت نے آئندہ سماعت کی تاریخ 14 اکتوبر (منگل) مقرر کی ہے۔ وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے اپنی درخواست میں کہا کہ سونم وانگچک کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے اور انہیں کسی قانونی عمل کے مطابق گرفتار نہیں کیا گیا۔
انہوں نے اپیل کی کہ عدالت عظمیٰ فوری طور پر مداخلت کرے اور سونم وانگچک کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرے تاکہ ان کے تحفظ اور قانونی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔اس سے پہلے گیتانجلی انگمو نے صدر دروپدی مرمو کو ایک جذباتی خط لکھا تھا۔
انہوں نے خط میں لکھا کہ ‘میرے شوہر کو گزشتہ 4 سال سے عوام کے مفادات کے لیے کام کرنے پر بدنام کیا جا رہا ہے، وہ کبھی کسی کے لیے خطرہ نہیں بن سکتے’۔ سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو لداخ میں پرتشدد مظاہروں کو بھڑکانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
بینچ کے سامنے عرضی گزار کی نمائندگی سینئر وکیل کپل سبل اور وویک تنکھا نے کی، اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کی۔ عدالت عظمیٰ نے کیس کی اگلی سماعت آئندہ منگل کو مقرر کی ہے۔