واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کاکہنا ہے کہ چین کی جانب سے ٹیکنالوجی سے متعلق وسائل کی برآمدات پر پابندیاں عائد کرنا عالمی معیشت کو کمزور کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ نایاب ارضی معدنیات (rare earths) اور دیگر ٹیکنالوجیکل وسائل کی برآمدات روکنے کا مقصد دراصل دنیا کو اپنے ساتھ نیچے لے جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر چین عالمی معیشت کو سست کرنا چاہتا ہے تو نقصان سب سے زیادہ خود چین کو ہوگا، وہ اس وقت کساد بازاری کے دہانے پر ہے اور برآمدات بڑھا کر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے مگر اس طرزِ عمل سے وہ خود اپنی عالمی حیثیت مزید خراب کر رہا ہے۔
خیال رہےکہ چین نے 9 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہ اب فوجی مقاصد کے لیے نایاب ارضی عناصر کی برآمد کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جس نے عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نایاب ارضی دھاتوں اور میگنیٹس کا استعمال امریکہ کے کئی اہم عسکری نظاموں میں ہوتا ہے، جن میں سمارٹ بم، ٹوماہاک میزائل اور ایف-35 لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
چین کے اس اقدام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے چینی درآمدات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی اور ساتھ ہی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
واضح رہےکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مؤقف میں نرمی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین کے بارے میں فکر نہ کریں، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا! صدر شی ایک معزز رہنما ہیں، ان سے غلطی ہوئی مگر وہ اپنے ملک کے لیے کساد بازاری نہیں چاہتے اور میں بھی نہیں چاہتا۔ امریکہ چین کی مدد کرنا چاہتا ہے، نقصان نہیں۔