اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف کا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست 4 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق، یہ کیس جسٹس ارباب محمد طاہر کی عدالت میں سنا جائے گا۔
عدالت نے اس مقدمے میں بانی پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ اسی طرح نیشنل سائبر کرائم ایجنسی، سپرنٹنڈنٹ جیل اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی فریق بنایا گیا ہے اور ان سے تحریری وضاحت مانگی گئی ہے۔
درخواست شہری غلام مرتضیٰ کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دورانِ قید ان کے ایکس اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر اشتعال انگیز، بدنیتی پر مبنی اور انتشاری نوعیت کی پوسٹس جاری کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عوامی امن کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق، چونکہ بانی پی ٹی آئی جیل میں قید ہیں، اس لیے ان کے اکاؤنٹ سے کسی بھی قسم کی سرگرمی یا پوسٹس کا ہونا مشکوک ہے۔ لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ان کے ایکس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بند کیا جائے یا متعلقہ اداروں کو ہدایت دی جائے کہ وہ ان پوسٹس کو ہٹائیں اور مزید پھیلاؤ سے روکیں۔
عدالت نے ابتدائی سماعت میں درخواست قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔