کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کے خلاف درج مقدمہ واپس لینے کے لیے متعلقہ حکام کو باضابطہ طور پر خط ارسال کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کرائم سرکل کی جانب سے بھجوائے گئے خط میں مقدمہ قانون کے تحت “سی کلاس” کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایف آئی اے نے اپنے مراسلے میں عدالت سے اجازت طلب کی ہے کہ مقدمہ منسوخ کر کے اس کی رپورٹ باضابطہ طور پر عدالت میں جمع کرائی جائے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقدمے میں نامزد سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، ایف بی آر کے دیگر حکام اور نجی بینک کے ملازمین کے نام مقدمے سے نکال دیے جائیں، تاہم چالان کے کالم ٹو میں ان کے نام برقرار رکھے جائیں تاکہ قانونی کارروائی کی شفافیت برقرار رہے۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے گزشتہ روز شبر زیدی کے خلاف 16 ارب روپے کی مبینہ غیر مجاز ادائیگیوں کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ اب ادارہ اس مقدمے کی منسوخی کے لیے عدالتی اجازت حاصل کرنے کا منتظر ہے تاکہ کارروائی باضابطہ طور پر ختم کی جا سکے۔