لاہور:۔ مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کو سید مودودیؒ کی فکر سے وابستہ تمام افراد سے رابطے بحال رکھنا چاہیے بھلے وہ جماعت کے کارکن نہ بھی ہوں۔
سینئر صحافی اور مصنف الطاف حسن قریشی کی کتاب “پیارے مولانا” کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ طالب علمی کے دور میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور اس دوران انہوں نے سید مودودیؒ کی کتابوں کا مطالعہ کیا جو آج تک ان کے ذہن میں نقش ہے۔
ذیلدار پارک لاہور میں ہونے والی تقریب میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن بطور مہمان خصوصی شریک تھے۔
سعد رفیق نے مزید کہا کہ اسلامی نظریاتی سوچ سے ہم آہنگ افراد کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ملک میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے الخدمت فاﺅنڈیشن پاکستان کی فلاحی سرگرمیوں کی تحسین کی اور خصوصی طور پر غزہ کے متاثرین کے لیے الخدمت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر الطاف حسن قریشی نے کہا کہ موجودہ دور میں مولانا مودودیؒ کے افکار کو نوجوانوں میں بے حد پذیرائی ملی ہے، پوری دنیا میں اسلام سے متعلق بیداری کی لہر پیدا ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی کو سید مودودی یونیورسٹی بنانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں میں سید مودودی کی تحریروں کو عام کرے، مقررین اور شرکاءمیںنائب امیر لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی وقاص انجم جعفری، سید مودودی کے صاحبزادے خالد فاروق مودودی ، سینئر صحافی مجیب الرحمن اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان شکیل احمد ترابی بھی شامل تھے۔