وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔
اڈیالا جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے کسی پولیس افسر یا ادارے کو کسی امیدوار کی حمایت کا نہیں کہا، بلکہ صرف انتخابی بے ضابطگیاں روکنے کی ہدایت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی کو دھمکی نہیں دی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس عدالت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت موجود ہے، اس کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق آئینی اور قانونی طریقہ اپنانے کے باوجود رسائی نہیں دی گئی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے دن ہی وزیراعظم سے ملاقات کی درخواست کی تھی تاکہ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کیا جا سکے، تاہم جواب ملنے کے بعد انہیں دوبارہ یہی بات کہنا مناسب نہیں لگا۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ وہ کوئی بھی بات کرتے ہیں تو ان کے خلاف مقدمہ بنا دیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ایبٹ آباد کے جلسے میں سہیل آفریدی نے انتظامیہ اور پولیس کو خبردار کیا تھا کہ اگر انتخابی دن بدمزگی ہوئی تو وہ اپنے عہدوں پر برقرار نہیں رہیں گے، جس پر الیکشن کمیشن نے ان کے بیان کا نوٹس لیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے متعلقہ حکام سے وزیراعلیٰ کے سرکاری افسران کو دی گئی مبینہ دھمکیوں پر رپورٹ طلب کی ہے۔