ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

برطانیہ نے امیگریشن قوانین سخت کردیے، غیر قانونی افراد  کے لیے بڑے مسائل

لندن: برطانوی حکومت نے امیگریشن پالیسی کے حوالے سے ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے رہائش کے لیے درکار مدت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک میں رہنے والے لاکھوں تارکینِ وطن کے مستقبل پر براہِ راست اثر پڑے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق نئی مجوزہ پالیسی کے تحت برطانیہ آنے والے افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وقت انتظار کرنا ہوگا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ قانونی طور پر آنے والے افراد کے لیے مستقل رہائش تک رسائی کا وقت بڑھا کر 20 برس تک کیا جا رہا ہے، جب کہ غیر قانونی طور پر پہنچنے والوں کو اس عمل کے لیے 30 برس تک انتظار کرنا پڑے گا۔

یہ قواعد برطانیہ میں پہلے سے مقیم تارکین پر بھی لاگو ہوں گے، جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہوسکتے ہیں۔

برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ  محمود نے پارلیمنٹ میں نئی امیگریشن پالیسی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے والے افراد کو لازمی طور پر سخت شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ان شرائط میں صاف کریمنل ریکارڈ، اے لیول کے معیار کی انگریزی بولنے کی صلاحیت، مالی ذمہ داریوں سے پاک ہونا اور ملک میں کسی قسم کا قرض نہ ہونا شامل ہے۔

انہوں  نے کہا کہ حکومت امیگریشن کے ٹوٹے ہوئے نظام کو زیادہ منصفانہ اور شفاف طریقہ کار سے بدلنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بہتر انضمام کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پالیسی میں قیام کی مدت میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے مستقل رہائش کے لیے ضروری رہائشی مدت کو 5 برس سے بڑھا کر 10 برس کر دیا گیا ہے، تاہم کچھ شعبوں میں نرمی بھی رکھی گئی ہے۔

وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ نیشنل ہیلتھ سروس کے تحت خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز اور نرسیں بدستور 5 برس بعد رہائش کے لیے درخواست دے سکیں گے، جب کہ اضافی آمدنی رکھنے والے افراد، باصلاحیت پروفیشنلز اور انٹرپینیورز کے لیے یہ مدت 3 برس مقرر کی گئی ہے۔ بہترین مہارت رکھنے والے افراد کو فاسٹ ٹریک چینل کے تحت رہائش کے عمل میں سہولت دی جائے گی۔

شابانہ محمود نے اپنی تقریر میں اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ ان کے اپنے والدین بہتر مستقبل کی تلاش میں برطانیہ آئے تھے اور وقت کے ساتھ مقامی کمیونٹی کا حصہ بن گئے۔ ان کے مطابق وہ چاہتی ہیں کہ ایسا نظام قائم کیا جائے جو آنے والے افراد کو ایک واضح اور منصفانہ راستہ فراہم کرے، لیکن ساتھ ہی ملک کے مفادات کا خیال بھی رکھا جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں