ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عمران خان نیشنل سکیورٹی تھریٹ نہیں ہے،سلمان اکرم راجا

اسلام آباد: سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ عمران خان نیشنل سکیورٹی تھریٹ نہیں ہے، بلکہ اس نے ملک کو جوڑ کے رکھا ہوا ہے۔

 انہوں نے پی ٹی آئی رہنمائوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل کی پریس کانفرنس کا جواب دینے نہیں بیٹھے, وہ ایک افسوس ناک گفتگو تھی کل کوئی پرمغظ گفتگو نہیں تھی کل صرف دشنام طرازی تھی۔

عمران خان نیشنل سکیورٹی تھریٹ نہیں ہے۔ عمران خان نے اس ملک کو جوڑ کے رکھا ہوا ہے، عمران خان نے کروڑوں نوجوانوں کو اس بیانیہ کے ساتھ جوڑ کر رکھا ہوا ہے جو اس ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی رکھتا ہے ورنہ اور بہت سارے بیانیے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ مشرف دور آیا تو کہا گیا کہ موڈریشن کا دور آ گیا ہے ہم بین الاقوامی معیشت کا حصہ بن جائیں گے یہاں ہسپتال بنیں گے سڑکیں بنیں گی لیکن وقت آیا اس شخص کو اس ملک میں ہسپتال تک نصیب نہیں ہوا۔

آج پاکستان وہیں کھڑا ہے جہاں قائد اعظم پاکستان کو کھڑا نہیں کرنا چاہتے تھے، ہر دور میں مقبول سیاسی رہنما کو سکیورٹی تھریٹ قرار دے چکے ہیں۔

کچھ اصول ہیں جو پوری دنیا نے اپنا لیے ہیں پاکستان آج پوری دنیا سے پیچھے کھڑا ہے جب سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹ کے خلاف فیصلہ دیا، پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دیں اس کی پاداش میں چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کے ذریعے ایک ذیلی عدالت بنا دیا گیا، آج اس ملک میں زباں بندی کا عالم ہے کوئی بھی کھل کر بات نہیں کر سکتا۔

ایمان مزاری اس کے شوہر حادی ہمارے سامنے مثال ہے وہ مظلوم کی آواز بنے ان کے ساتھ کیا ہورہا؟

مزید براں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے پارٹی رہنماو ¿ں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پریس کانفرنس اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں ہے۔

 پی ٹی آئی بڑی جماعت ہے، اس کے لیڈر چاہے وہ جیل میں ہے، وہ عمران نیازی ہے، ملک کے 70 فیصد عوام اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، وہ ملک اور جمہوریت کےلیے سیاسی بنیادوں پربنائے کیسز میں بند ہے، 180 سیٹوں سے 91 کے ساتھ بیٹھے لیکن آج 76رہ گئے۔

ہماری گھر کی سیٹ بھی چلی گئی ہم نے کچھ نہیں کہا۔ ہم نے ہمیشہ کہا کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ جمہوریت ، امن اور قانون کی بالادستی ہے۔ عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ ملک بھی ہمارا ہے اور فوج بھی ہماری ہے۔ 2025 میں مشکل وقت آیا تو ہم پاکستان اور فوج کے ساتھ کھڑے رہے۔

 26ویں اور 27ویں ترمیم ہونے کے باوجود ہم سمجھ رہے تھے کہ سب بہتر ہوجائے گا۔ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید ہم بہتری طرف چلے جائیں گے، لیکن کل کی پریس کانفرنس سے بڑی مایوسی ہوئی، پریس کانفرنس میں جو الفاظ استعمال ہوئے وہ الفاظ مناسب نہیں تھے۔

ایک بڑی سیاسی جماعت اور قیادت ، یا وزیراعلیٰ کے پی کےلیے بڑے افسر کی طرف سے اشاروں میں بھی ایسے الفاظ کا استعمال جمہوریت کےلیے بدقسمتی ہے، اچھا شگون نہیں ہے۔ کوئی ہمارا دشمن ہے جو پے درپے پریس کانفرنسز سے خوش ہوگا۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں