اسلام آباد: گیس مارکیٹ میں نجی شعبے کی شمولیت کے بعد حکومت نے گیس یوٹیلیٹیز کو کمرشل بنیادوں پر منتقل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا فیصلہ کر لیا ہے۔
نئے گیس فیلڈز میں نجی شعبے کا حصہ 10 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے مارکیٹ میں مسابقت بڑھنے کی توقع ہے۔ اس سے قبل ملک میں گیس کی ترسیل اور تقسیم صرف دو سرکاری کمپنیوں کے ذریعے ہی ممکن تھی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اوگرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری گیس کمپنیوں کے لیے فکسڈ ایسٹ ریٹرن فارمولا ختم کرکے نئے قواعد تشکیل دے۔ اس مقصد کے لیے اوگرا نے کے پی ایم جی کے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی ہیں، جو رواں ماہ کے آخر تک اپنی رپورٹ جمع کرائیں گے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن بھی عالمی بینک کے تعاون سے گیس سیکٹر کی مجموعی ری اسٹرکچرنگ پر کام کر رہا ہے۔
فی الحال ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی اپنے پھیلتے ہوئے پائپ لائن نیٹ ورک کے باعث منافع میں اضافہ کر رہی ہیں، جس کا بوجھ صارفین اٹھاتے ہیں۔
ایس این جی پی ایل کے آپریٹنگ اخراجات 2019-20 کے 66 ارب روپے سے بڑھ کر 2023-24 میں 94 ارب روپے ہو گئے، جبکہ منافع 19 ارب سے بڑھ کر 38.9 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
صنعتی صارفین طویل عرصے سے فکسڈ ریٹرن فارمولے پر اعتراض اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب گیس دستیابی کم ہو رہی ہے تو پائپ لائن نیٹ ورک کے پھیلاؤ کے باعث کمپنیوں کے منافع میں اضافہ صارفین کے لیے ناانصافی ہے۔