2025ء میں بھارت میں ایوی ایشن بحران محض فضائی حادثات یا پروازوں کی منسوخی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ اس ملک کی کھوکھلی ترقی اور بے بنیاد دعووں کے پردے کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارت میں پروازوں کی کثرت سے منسوخی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ریاست قوانین پر عمل درآمد کرنے کی اہلیت کھو چکی ہے اور نظام نہ مضبوط ہے نہ شفاف۔
رپورٹ کی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال احمد آباد میں ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے میں 260 افراد ہلاک ہوئے، مگر حادثے کے بعد تحقیقات غیر واضح رہیں اور رپورٹس نے کسی کو مطمئن نہیں کیا۔ فنانشل ٹائمز نے اس جانب توجہ دلائی کہ اس پورے عمل نے عوام کے ذہن میں یہ تاثر پیدا کیا کہ بھارتی ایوی ایشن نظام نہ صرف غیر مستحکم ہے بلکہ ریاست سچائی سامنے لانے کی اہلیت بھی نہیں رکھتی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق انڈسٹری کے اندر موجود آوازیں کہتی ہیں کہ عوام کا بھارتی ایئرلائنز پر اعتماد بری طرح ختم ہو چکا ہے۔ گزشتہ 5 برس میں 53 فضائی حادثات پیش آئے جن میں 320 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جب کہ حادثات کی شرح میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ اس میں بوئنگ طیارے، ہیلی کاپٹرز اور نجی جیٹس شامل ہیں، جو بھارتی ایوی ایشن کے اندرونی نقصانات اور بدترین صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
15 سے زائد ایئرلائنز کے دیوالیہ ہونے سے یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ بھارت کے ایوی ایشن نظام کو اندر سے ہی کھایا جا رہا ہے۔
آر ٹی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق متعدد نجی اور سرکاری ایئرلائنز نے اپنے آپریشنز معطل کیے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارت کی ایوی ایشن کو مزید مشکلات میں ڈال دیا اور اسے محدود وسائل کے ساتھ اپنے طیاروں کا انتظام کرنے پر مجبور کر دیا۔
مودی کی ہندوتوا شدت پسند پالیسیوں کے دباؤ میں بھارتی حکومت صرف کھوکھلے ترقیاتی دعووں اور پرکشش معاشی وعدوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔