بھاﺅ نگر: بھارت میں ہندوتوا کی مودی حکومت کی جانب سے مسلمان شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے،گجرات کے بھاﺅ نگر میں اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا جب حجاب پہننے والی لڑکی کو امتحان دینے سے انکار کر دیا گیا۔
جمعیت علماءہند نے ایک شکایت درج کرائی ہے، جس میں امتحانی مرکز کے نگرانوں کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ کا امتحان 24 دسمبر 2025 کو بھاﺅ نگر میں منعقد ہوا تھا۔ یہ امتحان بھاﺅ نگر کے تراسمیا میں واقع ایک سرکاری اسکول جے پی ایم انفوٹیک میں منعقد ہوا تھا۔
بھاﺅ نگر میں ایک مسلم لڑکی حجاب پہنے ہوئے امتحان میں شریک ہوئی۔
انسپکٹرز نے اس کا حجاب اتارنے پر اصرار کیا، لیکن لڑکی نے جواب دیا کہ میں صرف خواتین کو اپنا چہرہ دکھائوں گی، مردوں کو نہیں۔ آپ کسی خاتون انسپکٹر کو بلا کر میرا چہرہ اور شناختی کارڈ چیک کر سکتے ہیں۔
اس واقعہ کے تعلق سے جمعیت علماءہند نے ایڈیشنل کلکٹر کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
جمعیت علماءہند نے کہا کہ لڑکی نے جواب نہیں دیا اور نہ ہی انسپکٹر کی ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالی۔ اس نے انسپکٹر کے ساتھ تعاون کیا، لیکن انسپکٹر نے انکار کر دیا۔
انسپکٹر نے یہ بھی کہا کہ بہتر ہوگا اگر تم جیسے لوگ امتحان نہ دیں اور گالی گلوچ کی۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کے بعد انسپکٹر کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ مزید برآں انہوں نے مطالبہ کیا کہ زبان، مذہب، ذات پات یا سماجی مذہبی بنیادوں پر کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ مختلف امتحانی بورڈز نے پہلے کہا ہے کہ وہ مذہبی لباس جیسے حجاب کی اجازت دیں گے، بشرطیکہ امتحان پرائیوٹ اور خواتین عملے کے ذریعے منعقد کیا جائے۔ تاہم اس معاملے پر ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ کی طرف سے کوئی سرکاری بیان یا گجرات پولیس کی طرف سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔