فرانس میں بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن دنیا کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ ہے، جبکہ ستمبر 2026 سے ملک کے ہائی اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ اقدامات بچوں اور نوجوانوں پر آن لائن تشدد، ذہنی دباؤ اور منفی مواد کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔
صدر میکرون متعدد مواقع پر سوشل میڈیا کو نوجوانوں میں تشدد اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کے فروغ کی ایک بڑی وجہ قرار دے چکے ہیں، اور ان کا موقف ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو ڈیجیٹل نقصانات سے بچائے۔
میڈیا کے مطابق صدر میکرون چاہتے ہیں کہ فرانس اس معاملے میں آسٹریلیا کی مثال اپنائے، جہاں گزشتہ دسمبر میں دنیا میں پہلی بار 16
سال سے کم عمر بچوں کے لیے فیس بک، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی نافذ کی گئی۔
فرانسیسی حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے بچوں کی ذہنی نشوونما اور سماجی رویوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
فرانسیسی حکومت جنوری کے اوائل میں اس منصوبے سے متعلق مسودہ قانون قانونی جانچ کے لیے پیش کرے گی۔ صدر میکرون نے نئے سال کے موقع پر قوم سے خطاب میں اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ اپنے بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا اور اسکرینز کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
واضح رہے کہ فرانس میں پہلے ہی 2018 سے پرائمری اور مڈل اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد ہے، جبکہ نئی تجاویز کے تحت اس پابندی کو ہائی اسکولوں تک توسیع دینے کا ارادہ ہے۔
فرانسیسی تعلیمی نظام کے مطابق 11 سے 15 سال کی عمر کے طلبہ مڈل اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد تعلیمی ماحول کو بہتر بنانا اور طلبہ کی توجہ تعلیم پر مرکوز رکھنا ہے۔