اسلام آباد: سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے خلاف ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے مقدمہ درج کر لیا ہے، مقدمہ جعلی دستاویزات کے ذریعے قیمتی سرکاری و نجی اراضی کے بوگس انتقال کے الزام میں درج کیا گیا ہے، جس میں دیگر سرکاری اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں درج کیے گئے کیس میں نجف حمید، عبدالظہور اور خالد منیر کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، نجف حمید اس وقت حلقہ پٹواری اسلام آباد کے طور پر تعینات تھے جبکہ عبدالظہور ریونیو افسر کے عہدے پر فائز تھے۔ الزام ہے کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت سے جعلی اور بوگس دستاویزات تیار کر کے ایک کنال قیمتی زمین غیر قانونی طور پر اپنے نام منتقل کروائی۔
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں شواہد سامنے آئے ہیں کہ اراضی کے ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیا اور قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے جعلی انتقال درج کیے گئے، اس عمل سے قومی خزانے اور اصل مالکان کو مالی نقصان پہنچا، جبکہ سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے معاملے کی باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے اور ریکارڈ قبضے میں لے کر مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تفتیش کے دوران مزید انکشافات اور ممکنہ طور پر دیگر افراد کے ملوث ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کرپشن، جعل سازی اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے اور کسی بھی بااثر شخصیت کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ مقدمے میں نامزد ملزمان سے تفتیش کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔