راولپنڈی : جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ مدارس کے معاملے پر اگر ہمیں مزید پریشان کیا گیا تو یہ حکومت کے لیے ایک بڑی آزمائش بن سکتی ہے۔
راولپنڈی کے راجا بازار میں واقع دارالعلوم تعلیم القرآن میں توحید و سنت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ مدارس کو اپنے قبضے میں لے لیا جائے، جبکہ دوسری جانب پی آئی اے جیسے قومی ادارے نجی ملکیت میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مدارس پہلے ہی نجی ملکیت میں ہیں جہاں طلبہ کو گیس، پانی، بجلی، رہائش اور تعلیم مفت فراہم کی جاتی ہے، اس سے بڑا کوئی فلاحی ادارہ نہیں ہو سکتا۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ مدارس اور علما کے پیچھے ڈھائی سو سالہ قربانیوں کی تاریخ موجود ہے، قرآن و حدیث کے علوم کی حفاظت کا مرکز یہی مدارس ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو ادارے پہلے علمی مراکز تھے، جب وہ دوسروں کے ہاتھوں میں گئے تو ان کی وقعت کم ہو گئی، ہم ان شاء اللہ مدارس کی حفاظت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست انبیاء کا وظیفہ ہے، اگر ہم ان کے وارث ہیں تو ان کے منبر اور مصلے کے بھی وارث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مکالمے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، معاہدے ہوئے اور انہی کی بنیاد پر قانون سازی ہوئی، لیکن اگر ہمیں تنگ کیا گیا تو ہم مخالف جماعت سے بڑھ کر حکومت کے لیے آزمائش بن جائیں گے۔
آخر میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر نعرے لگانے کے بجائے عملی کام کیے جاتے تو پنجاب میں آپ کے سوا کوئی جیت نہیں سکتا تھا۔