اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ جماعت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سیاسی پشت پناہی کر رہی ہے، جس کے باعث ملک آج دہشت گردی کی صورت میں سنگین نتائج بھگت رہا ہے، پی ٹی آئی نے خود کو ایک غیر اعلانیہ استثنا دلوا رکھا ہے، اسی لیے اس پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، مگر قوم کو اس کی قیمت مسلسل ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب بھی کالعدم ٹی ٹی پی کا ذکر آتا ہے تو پی ٹی آئی رہنماؤں کی زبانیں لڑکھڑا جاتی ہیں، اگر اس جماعت میں واقعی جرات ہے تو کھل کر دہشت گردوں کے خلاف موقف کیوں اختیار نہیں کرتی، آج ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیچھے ایک منظم سیاسی انتشار کارفرما ہے، جس نے شدت پسند عناصر کو بالواسطہ سہارا دیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے پر ایسے حکمران مسلط ہیں جن کی سوچ محدود اور رویہ تنگ نظرانہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے لاہور کے دورے کے دوران خواتین سے متعلق نازیبا زبان استعمال کی، جو نہ صرف سیاسی اقدار بلکہ معاشرتی اخلاقیات کے بھی منافی ہے، خواتین پر طعنے کسنا اور تضحیک آمیز جملے کہنا صوبائی حکومت کی ذہنی پسماندگی کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیر اطلاعات نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں دہشت گردوں کو لا کر خیبر پختونخوا میں بسایا گیا اور انہی کے قائدین دہشت گردوں کو ’شہید‘ قرار دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ اس جماعت نے کبھی پاک فوج کے کسی جوان کی قربانی پر ایک لفظ بھی نہیں لکھا، جبکہ ان کا پورا بیانیہ مخصوص ایجنڈے کے گرد گھومتا رہا، ریاست دشمن عناصر کے خلاف جنگ آخری دم تک جاری رکھی جائے گی اور کالعدم ٹی ٹی پی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
ترقیاتی امور پر بات کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پنجاب کی ترقی سب کے سامنے ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بھی بڑے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، اس کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارہ برس سے برسراقتدار حکومت کی ناقص گورننس نے صوبے کو زبوں حالی سے دوچار کر دیا ہے۔
وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایسے اعتراضات نادانی پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی ملک کی جانب سے دعوت دی جاتی ہے تو وزیراعظم وہاں جاتے ہیں، اور یہ پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دعا کرنی چاہیے کہ ہر وزیراعظم کو اتنی ہی عالمی عزت اور پذیرائی ملے جتنی وزیراعظم شہباز شریف کو حاصل ہو رہی ہے، کیونکہ وزیراعظم اور عسکری قیادت کی عزت درحقیقت ہر پاکستانی کی عزت ہوتی ہے۔