لاہور: سربراہ جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمارے دینی مدارس میں ادب، اخلاق اور اعتدال کی جو تعلیم دی جاتی ہے وہ دنیا کی کسی بھی دانش گاہ میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔
جامعہ مدینہ جدید، رائے ونڈ روڈ لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا اصل کام اور مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اپنے بڑوں اور اسلاف کے نصب العین کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی دنیا میں آیا ہے وہ جانے کے لیے آیا ہے، کوئی بھی ہمیشہ کے لیے نہیں آیا۔
مولانا فضل الرحمان نے اسلام کو اعتدال کا مذہب قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان کو دانستہ طور پر اپنے اسلاف سے رشتہ توڑنے کا درس دیا جا رہا ہے، جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس نہ صرف دینی علوم بلکہ ادب، احترام اور اخلاقیات کی تربیت بھی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب حکمرانوں کی باطل قوتیں حرکت میں آتی ہیں تو وہ نئی نئی شکلیں اختیار کرتی ہیں، ایسے حالات میں جو آواز ان کے مقابلے میں کھڑی ہوتی ہے، وہی حق کی آواز ہوتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلام کی بقا آرام، سہولت اور آسائشوں میں نہیں بلکہ آزمائشوں اور قربانیوں سے گزرنے میں ہے، اور یہی تاریخِ اسلام کا مستقل پیغام ہے۔