اسلام آباد:اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالنے کے بعد قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں ایوان کی طاقت اور وقار کو بڑھانے پر زور دیا اور حکومت کو عوامی فلاح کے اقدامات پر مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے اور ہر اچھے کام میں اپوزیشن بھی تعاون کرے گی، برے کاموں میں کسی کا ساتھ دینا درست نہیں اور ایوان میں ایسی باتیں نہیں کی جائیں جو گھر کی چار دیواری یا اصولوں کے خلاف ہوں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مشکل وقت میں اصول کی بنیاد پر ساتھ دیا اور اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی، اچھے اقدامات کے لیے ووٹ دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی، اور داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیاں ایوان میں مشترکہ طور پر بنائی جائیں گی۔
خطاب کے دوران محمود خان اچکزئی نے عالمی صورتحال، خطے کے خطرات اور داخلی مسائل پر بھی روشنی ڈالی، بعض طاقتیں خطے کو جنگ کے میدان میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں اور پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے لیے ہمیں چوکس رہنا ہوگا، فوج اور پولیس اتنی مضبوط ہیں کہ عوام محفوظ ہیں اور ہمیں اپنے لوگوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے سابقہ فاٹا کی شمولیت، صوبائی حقوق، معاشی مسائل اور عالمی امور جیسے کشمیر، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے تعلقات پر بھی بات کی، پاکستان کو درست پالیسیوں کے ذریعے مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور عوام کی فلاح کے لیے ایوان میں مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔
آخر میں محمود خان اچکزئی نے عدم تشدد، انصاف اور قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان مضبوط اور خودمختار رہے۔