خیبر پختونخوا میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کا اعلان کیا ہے۔
اس پیش رفت کو ملکی توانائی وسائل میں اضافے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
او جی ڈی سی ایل نے اس نئی دریافت سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ کو باقاعدہ طور پر تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ خط میں کمپنی نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی حالیہ کھدائی کے دوران تیل اور گیس کے قابلِ ذکر ذخائر سامنے آئے ہیں، جو تکنیکی جانچ کے بعد پیداوار کے مرحلے کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
خط کے مطابق ضلع کوہاٹ میں واقع بارگزئی فیلڈ کے ایکس ون کنوئیں سے یومیہ تقریباً 3100 بیرل خام تیل حاصل ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیداوار ابتدائی مرحلے میں حاصل ہونے والی مقدار ہے، جسے مزید تکنیکی بہتری اور جانچ کے بعد بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس دریافت کو کوہاٹ کے علاقے میں توانائی کے امکانات کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا کے ناشپا بلاک میں واقع کنوئیں سے بھی گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل کے مطابق اس کنوئیں سے یومیہ 8.15 ملین مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی اطلاع دی گئی ہے، جو ملکی گیس نیٹ ورک میں شامل کیے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق یہ مقدار اگر مستقل بنیادوں پر برقرار رہی تو اس سے مقامی سطح پر گیس کی قلت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق ان ذخائر کا ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر 3010 پاؤنڈ فی مربع انچ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کنوئیں کی تکنیکی صلاحیت اور دباؤ کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ بارگزئی ایکس ون کنوئیں کی کھدائی کا عمل 30 دسمبر 2024 کو مکمل کیا گیا تھا، جس کے دوران کنوئیں کو 5170 میٹر کی گہرائی تک کھودا گیا۔ کمپنی کے مطابق ناشپا فیلڈ میں کھدائی جدید اور کامیاب ڈرلنگ سسٹم کے ذریعے انجام دی گئی، جس سے اس دریافت کی کامیابی ممکن ہوئی۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تیل اور گیس کے یہ نئے ذخائر نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے لیے اہم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی وسائل کی دریافت سے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ ملے گا اور مستقبل میں توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔