اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک طویل عرصے سے زیرِ سماعت قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پندرہ برس بعد نامزد ملزم کو تمام الزامات سے بری کر دیا اور اس کی فوری رہائی کا حکم جاری کر دیا۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا اور مقدمے میں شکوک و شبہات کی گنجائش واضح طور پر موجود ہے۔
عدالت نے اس مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ کا 29 نومبر 2017 کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں شواہد اور گواہیوں کا درست اور مکمل جائزہ نہیں لیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق کپڑے کی دکان پر بقایا 2500 روپے کے تنازع پر درج قتل کے مقدمے میں نامزد نعیم ارشد عرف پپو کے خلاف شواہد قابلِ اعتماد نہیں تھے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ شکایت کنندہ کی جائے وقوعہ پر موجودگی مشکوک دکھائی دیتی ہے، جبکہ واقعے کے وقت مکمل اندھیرے کی صورتحال تھی اور کسی قسم کے روشنی کے ذرائع کا تذکرہ بھی ریکارڈ پر موجود نہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ واقعہ استغاثہ کے بیان کردہ انداز میں پیش آنے کے شواہد نہیں ملتے بلکہ پورا معاملہ پراسرار نوعیت اختیار کر جاتا ہے۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تفتیشی افسر کے مطابق فائرنگ نعیم ارشد نے نہیں بلکہ شہباز علی نے کی تھی، جس سے مقدمے کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ شہباز علی سے برآمد ہونے والے پستول سے موقع واردات سے ملنے والا خول میچ ہوا تھا، تاہم شہباز علی کو ٹرائل کورٹ پہلے ہی بری کر چکی تھی، شہباز علی کی بریت کے خلاف نہ تو ریاست کی جانب سے اپیل دائر کی گئی اور نہ ہی شکایت کنندہ نے اسے چیلنج کیا جبکہ اہم گواہوں کو عدالت میں پیش نہ کرنا بھی استغاثہ کے لیے منفی پہلو ثابت ہوا۔
یاد رہے کہ مقتول انور کو 14 مارچ 2011 کو ساہیوال میں واقع کپڑے کی دکان پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ کے مطابق قتل سے دو روز قبل کپڑوں کے بقایا 2500 روپے کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا۔
اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے 2015 میں نعیم ارشد کو 25 سال قید کی سزا سنائی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کو پندرہ سال بعد انصاف فراہم کرتے ہوئے بری کر دیا۔