ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اٹھارویں ترمیم پر دوبارہ اتفاقِ رائے سے بہتری ممکن ہے، رانا ثنااللہ

اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی تاہم اگر دوبارہ اتفاقِ رائے پیدا ہو تو اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے، کیونکہ بہتری کا راستہ پورے آئین میں کھلا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم پر بات ہونی چاہیے اور اس حوالے سے مکالمہ کسی بھی طور غلط نہیں۔

رانا ثنااللہ نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر بھی بات کی اور کہا کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گل پلازہ کی منزلوں کی منظوری کس نے دی، یہ عمارت کب بنی اور اس میں قوانین پر کس حد تک عمل ہوا، ان تمام معاملات کا پورا احتساب ہونا چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان ہر ملاقات کو ریاست اور اداروں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں، اسی لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملاقاتوں کا باقاعدہ طریقہ کار طے کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے بعد اب اس معاملے میں مزید ابہام نہیں رہنا چاہیے۔

رانا ثنااللہ نے زور دیا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے اور جب تک مقامی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کیے جائیں گے، عوامی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ضلعی حکومتیں ہی عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کر سکتی ہیں۔

خواجہ آصف کے بیان سے متعلق سوال پر مشیر وزیراعظم نے کہا کہ اسمبلی میں خواجہ آصف نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا تھا اور پارلیمنٹ میں ہر رکن کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پارٹی پالیسی بیان کر رہے ہیں، اس لیے ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں