ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکا کی روس اور چین کو باہر رکھتے ہوئے گرین لینڈ میں اہم اسٹریٹیجک پیش قدمی

امریکا اور نیٹو کے درمیان گرین لینڈ سے متعلق ایک ابتدائی مگر انتہائی اہم نوعیت کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کے تناظر میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے درمیان اس فریم ورک پر اتفاق کیا گیا ہے، جو نہ صرف گرین لینڈ بلکہ پورے آرکٹک خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ برطانیہ اور قبرص کے درمیان طے پانے والے انتظامی ماڈل سے مماثلت رکھتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کے چند منتخب علاقوں میں انتظامی اور سیکورٹی اختیارات حاصل ہوں گے جب کہ وہ وہاں موجود قیمتی اور نایاب معدنی وسائل میں بھی شراکت دار ہوگا۔

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں روس اور چین کو اس خطے میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے باہر رکھا جائے گا، جو امریکا کے اسٹریٹجک مفادات کے عین مطابق ہے۔ معاہدے کے تحت امریکا گرین لینڈ میں اپنا جدید ترین دفاعی نظام، جسے گولڈن ڈوم سسٹم کہا جا رہا ہے، نصب کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ نہ صرف امریکا بلکہ تمام نیٹو ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اسی موقع پر انہوں نے یورپی ممالک پر ممکنہ تجارتی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی سے بھی یوٹرن لیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگلے ماہ نیٹو پر کوئی نیا ٹیرف عائد نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ حالات میں اتحاد اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی کی زیادہ ضرورت ہے۔

رپورٹس کے مطابق معاہدے کی رو سے امریکا گرین لینڈ میں فوجی مشقیں، انٹیلی جنس آپریشنز اور تربیتی سرگرمیاں ڈنمارک کی پیشگی اجازت کے بغیر انجام دے سکے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو خریدنے کی خواہش کا بھی اظہار کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ انہیں اس جزیرے کو کرایے پر لینے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان بیانات پر عالمی سطح پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا تھا۔

اُدھر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کی ملکیت کا معاملہ امریکا اور ڈنمارک آپس میں طے کریں، روس کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ڈنمارک کی وزیراعظم نے اگرچہ امریکی بیانات کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم فوجی طاقت کے استعمال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں