لاہور: پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے میں تین روزہ بسنت فیسٹیول کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں ہر شہری کو آزادی کے ساتھ خوشی منانے کا حق حاصل ہے، یہ صوبہ سب کا ہے اور عید، ہولی، کرسمس اور رمضان سمیت ہر مذہبی تہوار منانے کا حق عوام کو حاصل ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بسنت فیسٹیول سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے عوام سے خوشیوں کا ماحول چھین کر انہیں تفریح اور خوشی سے دور کر دیا گیا اور اب عوام کو خوشیاں واپس دلانے کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسم بہار کی آمد کی اطلاع دینے والا بسنت کا تہوار تقریباً 800 سال سے پنجاب کی ثقافت اور ورثے کا حصہ رہا ہے اور دنیا بھر میں پنجاب کے کلچر کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ اس سال 6، 7 اور 8 فروری کو پہلی بار گورنمنٹ اسپانسرڈ اور آرگنائزڈ بسنت منایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے شہریوں کی حفاظت کے لیے جامع سیفٹی پلان بنایا ہے، جس کے تحت لاہور کو ریڈ، یلو اور گرین زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بسنت کے دوران 10 لاکھ بائیکوں پر مفت سیفٹی راڈ لگائے جائیں گے اور 2150 مینوفیکچر، ٹریڈرز اور دکان دار رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔ بسنت سے پہلے غیر قانونی پتنگ بازی پر 600 سے زائد مقدمات درج اور 641 افراد گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ 27 ہزار سے زائد غیر قانونی پتنگیں برآمد کی گئی ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ بسنت کے دوران ڈور کی چرخی منع ہے اور صرف پنا یا کاٹن کے 9 دھاگوں والی ڈور استعمال کی جا سکے گی۔ ممنوعہ ڈور استعمال کرنے پر 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ بسنت کے دوران شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہوگی، اور ریڈ زون میں سیفٹی راڈ کے بغیر بائیک نہیں چلائی جا سکے گی۔
انہوں نے بسنت ٹریفک پلان کے بارے میں بھی بتایا کہ 100 ٹریفک پولیس کیمپ لگائے جائیں گے، فری رائیڈ کی سہولت فراہم کی جائے گی، اور 40 ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی پر رہیں گے۔ بسنت کے دوران سیف سٹی اور کمشنر آفس میں کنٹرول روم 24/7 فعال رہے گا اور ڈرون و سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ بسنت عوام کی خوشی اور تفریح کے لیے ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں یا ڈس انفارمیشن پر کان نہ دیں۔ بسنت فیسٹیول کی لانچنگ 6 فروری کی رات ہوگی اور 7 فروری کو باقاعدہ آغاز ہو گا۔