کراچی : سانحہ گل پلازہ پر متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے شفاف تحقیقات، ڈی این اے اور فارنزک عمل کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی کالونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کا واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے، جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
فاروق ستار کے مطابق ایک ہی خاندان کے چھ افراد اس سانحے میں جاں بحق ہوئے، جن میں سے چار کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہو چکی ہے جبکہ دو افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو اس وقت تک سکون نہیں مل سکتا جب تک تمام لاپتا افراد کا مکمل حساب سامنے نہیں آ جاتا۔
ایم کیو ایم رہنما نے سوال اٹھایا کہ انسانی باقیات کے ڈی این اے اور فارنزک ٹیسٹ کہاں اور کس نگرانی میں کیے جا رہے ہیں، اور مطالبہ کیا کہ اس پورے عمل کو احترام اور شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور میئر کراچی سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیں اور لاپتا افراد کے اہل خانہ کو مطمئن کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ رش کے وقت ایک دکان سے بڑی تعداد میں لاشوں کا ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کئی افراد کی رجسٹریشن تک نہیں ہوئی تھی، خاص طور پر اندرونِ ملک سے آنے والے محنت کشوں کے لواحقین کو اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات بھی نہیں مل پا رہیں۔ باقیات سے بھرے ٹرکوں کا غائب ہونا بھی ایک تشویش ناک پہلو ہے۔
فاروق ستار نے سرکاری سطح پر ہونے والی تحقیقات کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی میں رپورٹ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں آئی ایس آئی اور ایف آئی اے پر مشتمل ایک آزاد اور غیرجانبدار تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔