ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹرمپ اور پیوٹن رابطے کے بعد یوکرین جنگ میں ممکنہ وقفہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شدید سرد موسم کے باعث ایک ہفتے کے لیے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملے نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ  نے کہا کہ یہ پیش رفت ان کی ذاتی درخواست کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے روسی قیادت سے کہا تھا کہ سخت موسمی حالات کے دوران شہری آبادی کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر بہت سے لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ یہ درخواست مؤثر ثابت ہو گی، تاہم پیوٹن نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔

واشنگٹن میں کابینہ کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرینی عوام اس فیصلے پر خوش ہیں کیونکہ وہ شدید سردی اور جنگی حالات کے باعث غیر معمولی مشکلات سے دوچار ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ممکنہ وقفے کا آغاز کب ہوگا اور اس کی عملی تفصیلات کیا ہوں گی۔

دوسری جانب روس کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کسی باضابطہ معاہدے یا اعلان کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ روس اپنے وعدے پر عمل کرے گا۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ شدید سرد موسم میں کیف اور دیگر شہروں کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

یوکرینی صدر کے مطابق اس معاملے پر روس، یوکرین اور امریکا کی ٹیموں کے درمیان متحدہ عرب امارات میں بات چیت بھی ہو چکی ہے، جسے تعمیری قرار دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یوکرین نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر روس شہری علاقوں پر حملے روکتا ہے تو وہ روسی تیل ریفائنریوں پر اپنے حملے عارضی طور پر معطل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ اس پیش رفت کو دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے یوکرین، روس اور امریکا کے مذاکرات کاروں کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ سہ فریقی ملاقات ہوئی تھی، جس میں جنگی صورتحال، انسانی امداد اور ممکنہ اعتماد سازی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اگرچہ یہ ملاقات کسی حتمی معاہدے پر منتج نہیں ہوئی، تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں محدود سطح پر کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ عالمی برادری اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا روس اور یوکرین واقعی اس ممکنہ وقفے کو عملی جامہ پہناتے ہیں یا نہیں، کیونکہ اس کے اثرات خطے کے امن اور عالمی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں