اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل صریحاً خلاف اسلام ہے ۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ جس میں اہم قانونی معاملات پر رائے دی گئی جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی واقعات کی بھی مذمت کی گئی۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے سفارش کی کہ اگر خاوند دو سال تک لاپتہ رہے تو بیوی کو فسخِ نکاح کی اجازت دی جا سکتی ہے، اسی طرح نفقہ فراہم نہ کیے جانے کی صورت میں ایک سال بعد فسخِ نکاح ممکن ہوگا جب کہ خاوند کے قید میں ہونے کی صورت میں 3 سال بعد عدالت سے رجوع کیا جا سکے گا۔ ذہنی یا جسمانی بیماری کی بنیاد پر بھی ایک سال بعد فسخِ نکاح کی اجازت دینے کی سفارش کی گئی جب کہ بچپن میں ہونے والے نکاح میں اگر سوءِ اختیار ثابت ہو جائے تو فسخِ نکاح ممکن قرار دیا گیا ہے۔
اس موقع پر اسلامی نظریاتی کونسل نے واضح الفاظ میں کہا کہ غیرت کے نام پر قتل صریحاً خلافِ اسلام ہے اور کسی بھی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ریاستی قوانین کی پاسداری اورعدالتی نظام کے ذریعے انصاف کی فراہمی ہی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔
اس موقع پر چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ اسلام امن، برداشت اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے جب کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔