اورنگ آباد: بھارتی ریاست بہار میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی 4 نابالغ لڑکیوں نے خودکشی کرلی۔
بہار کے اورنگ آباد میں 4 لڑکیوں نے خودکشی کرلی۔ یہ واقعہ ضلع کے ہاس پورہ تھانہ علاقے کے ایک گائوں میں پیش آیا۔
جن 5 لڑکیوں نے اکٹھے خودکشی کی کوشش کی ان میں سے صرف ایک بچ پائی، تمام مرنے والی لڑکیاں مہادلت پس منظر سے تعلق رکھتی تھیں۔
اگرچہ اہل خانہ نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی اور تمام لاشوں کو جلا دیا تاہم ایک لڑکی بچ گئی جس سے کیس کا پتہ چلا۔
اطلاعات کے مطابق مہادلت برادری کی پانچ نابالغ لڑکیاں گاو ¿ں کے قریب ایک ندی اور تالاب کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، جہاں انہوں نے ایک ساتھ خودکشی کی کوشش کی اور گندم کے کھیت میں چلی گئیں۔
ان میں سے ایک لڑکی اپنے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اور اس نے اپنے گھر والوں کو واقعے کی اطلاع دی، اس کے گھر والے اسے علاج کے لیے باہر لے گئے جہاں اس وقت وہ زیر علاج اور زندہ ہے۔
باقی4 لڑکیاں جو قریبی گندم کے کھیت میں گئی تھیں، تڑپ تڑپ کر دم توڑ گئیں۔
واقعہ کے بعد سے گائوں میں خاموشی چھائی ہوئی ہے، گائوں والے کھل کر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں لیکن بڑے پیمانے پر خودکشی کا اعتراف کر رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق لڑکیوں کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ نے پولیس کارروائی کے خوف سے ان کی آخری رسومات ایک مقام پر ادا کر دیں۔
جب پولیس افسران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا، پولیس افسران بھی کھل کر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں
۔
اجتماعی خودکشی کی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی،اہم سوال یہ ہے کہ5 نابالغ لڑکیوں کو ایک ساتھ اپنی جان لینے پر کس چیز نے اکسایا؟ کیا وہ دبائو میں تھیں؟ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اہل خانہ اور گائوں والے اس واقعہ کو کیوں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں؟۔
واضح رہے کہ بھارت میں جنونی اور خود کو اونچی ذات کا برہمن کہنے والے ہندو دلت برادری سے انتہائی نفرت کرتے ہیں،انھیں جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں،دلت ہندو لڑکیوں کی عصمت دری ،قتل انڈیا میں معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔