ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گواہوں کو دباؤ میں لانے کیلیے جرح انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک اہم اور رہنما اصولوں پر مبنی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ جرح کے عمل کو گواہوں کو ہراساں کرنے، تضحیک کا نشانہ بنانے یا غیر متعلقہ سوالات کے ذریعے دباؤ میں لانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جرح کا حق اگرچہ فریقین کو حاصل ہے، تاہم یہ حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام، بلکہ اسے انصاف کے تقاضوں اور عدالتی نظم و ضبط کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جانا لازم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو قانون کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ گواہوں کو غیر ضروری ذہنی دباؤ، طویل اور بے مقصد جرح، یا تضحیک آمیز رویے سے محفوظ رکھیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر جرح انصاف کے بجائے ہراسانی کا ذریعہ بن جائے تو ٹرائل کورٹ کو مکمل قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے عمل کو محدود کرے یا مکمل طور پر ختم کر دے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کے دوران یہ مشاہدہ کیا تھا کہ مزید جرح نہ صرف غیر ضروری ہو چکی ہے بلکہ غیر متعلقہ سوالات اور گواہ کو ذہنی طور پر تھکانے کے مترادف بھی ہے۔ اسی بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا تھا، جسے بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اس کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کر دیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے اس حد تک تھکا دینا کہ وہ غلطی کرنے پر مجبور ہو جائیں، انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔  عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ عدالتی ریکارڈ کی درستگی کے حوالے سے ایک مضبوط قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے، جسے محض بے جا شکوک یا غیر متعلقہ سوالات کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کو سول پروسیجر کوڈ کے سیکشن 151 کے تحت کارروائی کو منظم رکھنے اور عدالتی عمل کو بے جا طوالت سے بچانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اس اختیار کا مقصد انصاف کی فراہمی کو مؤثر بنانا ہے، نہ کہ کسی فریق کے حقوق سلب کرنا۔

یہ مقدمہ لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال اور 3 مرلہ اراضی سے متعلق تھا، جس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق صرف دو ماہ کے عرصے میں سات سماعتوں کے دوران گواہ پر 30 صفحات پر مشتمل جرح کی جا چکی تھی۔

تفصیلی تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے جاری کیا، جسے قانونی ماہرین گواہوں کے تحفظ، جرح کی حدود اور ٹرائل کورٹس کے اختیارات کے حوالے سے ایک اہم نظیر قرار دے رہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں